| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
اور کلائی تک لے آئے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے اندروالے حصے کو دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ظاہر پر پھیرے پھر بائیں بازو کے ساتھ بھی اسی طرح کرے پھر ہتھیلیوں کا مسح کر کے انگلیوں کے درمیان خلال کرے اس تکلیف کا مقصد یہ ہے کہ ایک ہی ضرب کے ساتھ کہنیوں تک گھیرنا پایا جائے لیکن اگر ایک ضرب سے ایسا کرنا مشکل ہو تو دو یا زیادہ ضربوں سے گھیرنے میں حرج نہیں۔اور ایک تیمم کے ساتھ ایک فرض نمازاور جتنے چاہے نوافل پڑھ سکتے ہیں ۔ ۱؎
صفائی نصف ایمان ہے:
سر، کان اور ناک کے میل کو صاف کرنا مستحب ہے نیز انگلیوں کے کناروں اور ناخنوں کے نیچے جمع ہونے والی میل کچیل کی صفائی کرنا بھی مستحب ہے۔
ناخن کاٹنے، بغل کے بال اکھیڑنے اور موئے زیر ناف صاف کرنے میں چالیس دن سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ ہے اور حمام میں اس شرط پر داخل ہو سکتا ہے کہ وہ اپنا ستر چھپائے اور دوسروں کا ستر دیکھنے سے بچے اور داخل ہوتے وقت نماز کے لئے طہارت کی نیت کرے اورحمام میں داخل ہوتے وقت وہی دعا پڑھے جو بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت پڑھی جاتی ہے اوراسی طرح باہر نکلتے وقت کی دعا پڑھے۔جب ناخن کاٹنے کا ارادہ کرے تو دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم کرے اور سرمہ طاق عدد میں لگاناچاہے۔ مروی ہے کہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دائیں آنکھ میں تین اور بائیں آنکھ میں دو سلائیاں پھیرتے تاکہ ان کا مجموعہ طاق ہو ۔''(العجم الکبیر ،الحدیث۱۳۳۵۳،ج۱۲،ص۲۷۹،مختصرًا)
چاہے کہ تمہارا کوئی بھی کام ترتیب سے خالی محض اتفاق سے نہ ہو پس یہی انسان اور چوپائے میں فرق ہے کیونکہ چوپائے کی حرکت اتفاقی ہوتی ہے جبکہ انسان حکم کے مطابق حرکت کرتا ہے۔اوربچے کا ختنہ یہودیوں کی مخالفت کرتے ہوئے پیدائش کے ساتویں دن کرناچاہئے۔چنانچہ حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عزت نشان ہے:
''اَلْخِتَانُ سُنَّۃُ الرِّجَالِ،وَمَکْرَمَۃُ النِّسَاءِ
ترجمہ : ختنہ کرنا مردوں کے لئے سنت اور عورتوں کے لئے باعث ِعزَّت ہے۔''۲؎
(المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث اسامۃ الھذلی، الحدیث۲۰۷۴۴،ج۷،ص۳۸۱)
۱؎: حضرت علاَّمہ حسن عمار بن عمر شرنبلالی علیہ رحمۃ اللہ الکافی فرماتے ہیں:''ایک تیمم سے جتنی چاہیں فرض اور نفل نمازیں پڑھ سکتے ہیں۔'
'(نورالایضاح،باب التیمم ، ص۳۶)
۲ ؎:محدِّث بریلوی،امام اہلسنت، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لڑکیوں کے ختنے کے بارے ميں فرماتے ہیں:''لڑکیوں کے ختنہ کرنے کا تاکیدی حکم نہیں اور یہاں پاک وہند میں رواج نہ ہونے کے سبب عوام اس پر ہنسيں گے اور یہ ان کے گناہِ عظیم میں پڑنے کا سبب ہو گا او رحفظ ِ دینِ مسلماناں واجب ہے۔ لہٰذا یہاں (پاک وہند میں ) اس کا حکم نہیں۔''
(فتاوٰی رضویہ،ج۲۲، ص۶۸۰)