Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
58 - 415
باب4:                                 نمازکے اسرارومسائل

اس میں چند فصول ہیں:

                           نما ز، سجد ہ ،جماعت اوراذان وغیرہ کے فضائل

فضیلتِ اذان :
    نبئ رحمت، شفیعِ اُمت، قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''تین آدمی قیامت کے دن مشک اذفر کے ٹیلے پر ہوں گے انہیں حساب غمزدہ نہیں کریگا نہ انہیں گھبراہٹ ہوگی یہاں تک کہ لوگ اپنے حساب و کتاب سے فارغ ہو جائیں: (۱) وہ شخص جس نے رضائے الٰہی کے لئے قرآن مجید پڑھا(۲)وہ شخص جو کسی کا غلام ہو اس وجہ سے وہ آخرت کے عمل سے غافل نہ ہو(۳)وہ شخص جس نے نماز کیلئے اذان دی ہو۔''
(شعب الایمان،باب فی الصلوات ،فضل الاذان والاقامۃ للصلاۃ المکتوبۃ ،الحدیث۳۰۶۰،ج۳،ص۱۲۰،بتغیرٍ قلیلٍ)
    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذی وقارہے:
یَدُ الرَّحْمٰنِ عَلٰی رَاْسِ الْمُؤَذِّنِ حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْ اَذَانِہٖ
ترجمہ :اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دستِ رحمت مؤذِّن کے سر پر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اذان سے فارغ ہوجائے۔
 (الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ،الرقم۱۲۲۰۔عمر بن حفص ،ج۶،ص۹۹۔۱۰۰)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان :
''وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ
ترجمۂ کنزالایمان:اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے۔(پ۲۴،حٰمۤ السجدۃ:۳۳)''کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد مؤذِّن ہے،پس جب تم اذان سنو تو وہی الفاظ کہو جو مؤذِّن کہتا ہے سوائے
 حَیَّ عَلٰی الصَّلٰوۃِ
اور
حَیَّ عَلٰی الفَلَاحِ
 کے۔ ان دو کلمات کے جواب میں
 لاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
 کہو اور
 قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃُ
کے جواب میں
 اَقَامَھَا اللہُ وَاَدَامَھَا مَادَامَتِ السَمٰوَاتُ وَالْاَرْضُ
 اور
اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ
 کے جواب میں
صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ
کہو اور اذان سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا مانگو:'
'اَللّٰھُمَّ رَبَّ ہٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلٰوۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَنِا لْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ ،وَالدَّرَجَۃَ الرَّفِیْعَۃَ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَنِ الَّذِیْ وَعَدَتَّہ،
	ترجمہ : اے اس دعوتِ کامل اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب! حضرت سیِّدُنا محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کووسیلہ، فضیلت اور بلند درجہ عطا فرما اور آپ کو اس مقامِ محمود پر پہنچا جس
Flag Counter