Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
55 - 415
اور پے در پے وضوکرنا (یعنی ایک عضو سوکھنے نہ پائے کہ دوسرا عضو دھو لینا)واجب نہیں۔
غسل فرض ہونے کے اسباب :۱؎
    غسل چارچیزوں کی وجہ سے فرض ہوتا ہے:(۱)شہوت کے ساتھ منی کانکلنا(۲)مردوعورت کی شرمگاہوں کاکسی رکاوٹ کے بغیر ملنا(۳)حیض اور(۴)نفاس کے ختم ہونے کے بعد۔ اس کے علاوہ باقی غسل سنت ہے جیسے جمعہ، عیدین ،احرام، وقوفِ عرفہ و مزدلفہ اور مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کا غسل ایک قول کے مطابق ایَّامِ تشریق میں اور طوافِ و داع کے لئے غسل کرنا ، کافر جب مسلمان ہوا ور جنبی نہ ہو، پاگل کہ جب اسے افاقہ ہو اور جو آدمی میت کو غسل دے۔ ان سب کے لئے غسل کرنا مستحب ہے۔ اس بات کو سمجھو تمہارے لئے مفید ہے۔
تیمم کاطریقہ:
    جو پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو مثلًا پانی تلاش کے باوجود نہ ملتا ہو یا اس تک پہنچنے میں تکلیف یا کوئی اور رکاوٹ موجود ہو یا پانی تو موجود ہے لیکن اپنی یا اپنے ساتھی کی پیاس کی وجہ سے پانی کی ضرورت ہے یا وہ کسی دوسرے کی ملکیت میں ہو اور وہ عام قیمت سے زیادہ پر بیچتا ہے یا اسے کوئی زخم یا بیماری ہے کہ پانی استعمال کرنے سے عضو کے خراب ہونے یا بہت زیادہ کمزوری کا ڈر ہو تو وہ صبر کرے حتیٰ کہ فرض نماز کا وقت داخل ہو جائے پھر وہ پاک زمین کا قصد کرے جس پر پاک خالص اور نرم مٹی ہو اور اپنی انگلیوں کو ملا کر اس پر دونوں ہاتھ مارے اور نماز کے جائز ہونے کی نیت کرے اور ایک مرتبہ پورے چہرے کا مسح کرے بالوں کی جڑوں تک مٹی پہنچانے کی تکلیف نہ اٹھائے اور غبار سے اچھی طرح چہرے کے ظاہری حصہ کا مسح کرے اور یہ بات ایک مرتبہ ہاتھ مارنے سے حاصل ہو جائیگی کیونکہ چہرے کی چوڑائی ہتھیلیوں کی چوڑائی سے زیادہ نہیں پھر اپنی انگوٹھی اتاردے اور اب دوسری مرتبہ انگلیوں کو کشادہ کرکے مٹی پر ہاتھ مارے پھر دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے ظاہر کو بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے باطن (اندر والے حصے) سے یوں ملائے کہ ایک طرف سے پوروں کے کنارے دوسرے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے باہر نہ ہوں پھر جس طرح بائیں ہاتھ کو دائیں بازو کے ظاہر پر رکھا تھا اسی طرح کہنی تک پھیرے پھر بائیں ہتھیلی کو الٹ کر دائیں بازو کے باطن پر پھیرے
۱؎:احناف کے نزدیک غسل فرض ہونے کے پانچ اسباب ہیں :''امیر اہلسنت بانئ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطاؔرقادری مدظلہ العالی نماز کے احکام میں نقل فرماتے ہیں(۱)منی کا اپنی جگہ سے شہوت کے ساتھ جدا ہوکر عضوسے نکلنا(۲)احتلام یعنی سوتے میں منی کا نکل جانا(۳)شرمگاہ میں حشفہ (سپاری)داخل ہوجاناخواہ شہوت ہویانہ ہو،انزال ہویانہ ہو،دونوں پرغسل فرض ہے (۴)حیض سے فارغ ہونا(۵)نفاس (یعنی بچہ جننے پر جوخون آتاہے اس) سے فارغ ہونا۔''
   (نماز کے احکام ،غسل کا طریقہ،ص۱۰۷)
Flag Counter