| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ترجمہ :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! تیری ذات پاک ہے میں تیری حمد بیان کرتا ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں نے برے اعمال کئے اور اپنے نفس پر ظلم کیا اب میں تجھ سے بخشش کا سوال کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں تو مجھے بخشش دے اور میری توبہ قبول فرما بے شک تو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے کثرت سے توبہ کرنے والوں میں سے کر دے اور خوب پاک ہونے والوں میں سے بنا دے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما مجھے صبر وشکر کرنے والا بنادے مجھے اپنا بہت زیادہ ذکر کرنے والا بنادے کہ صبح و شام تیری پاکی بیان کروں۔''
(جامع الترمذی ،ابواب الطھارۃ ،باب فی مایقال بعد الوضوء ،الحدیث۵۵،ص۱۶۳۶،ملخصًا)
جو شخص اس طرح کرتا ہے اس کے وضو پر مہر لگاکر اسے عرش کے سائے تک بلندکیاجاتاہے اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح و تقدیس بیان کرتا رہتاہے اوروضوکرنے والے کے لئے قیامت تک ثواب لکھا جاتا ہے۔اعضاء کو تین مرتبہ سے زیادہ دھونا مکروہ ہے اور پانی میں اسراف کرنا بھی مکروہ ہے اور اس طرح ہاتھ جھاڑنا کہ پانی ٹپک جائے اور وضو کے دوران گفتگو کرنا بھی مکروہ ہے۔
غسل کاطریقہ:
وہ استنجا ء و وضو کرے جس کا طریقہ بیان ہو چکا ہے البتہ پاؤں کا دھونا مؤخر کرے پھر تین بار دائیں کندھے پر پانی بہائے پھر تین بار بائیں کندھے پر۔پھر جسم کو آگے پیچھے سے ملے بالوں کا خلال کرے اور بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچائے خواہ گھنے ہو یا پتلے ۔کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے عورت پرچوٹیاں کھولنا ضروری نہیں البتہ جب علم ہو کہ بالوں کے درمیان پانی نہیں پہنچے گا(تو کھولنا لازم ہے) غسل کے دوران عضو ِمخصوص کو ہاتھ لگانے سے پرہیزکرے کیونکہ ایسا کرنے سے وضو ٹوٹ ۱؎جاتا ہے۔ بدن کی سلوٹوں کا خیال رکھے اور غسل کی ابتداء میں نیت ضرور کرے۔ ۲؎
فرائضِ وضو:۳؎
(۱)نیت کرنا(۲) چہرے کا دھونا(۳) دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا(۴)مسح کرنا (۵) پاؤں کا ٹخنوں سمیت دھونا
۱؎:احناف کے نزدیک: ذکر اور عورت کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ جیساکہ حضرت علامہ حسن بن عمار شرنبلالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:'' ذکر اور عورت کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔''
(نورالایضاح،فصل عشرۃ اشیاء لاتنقض الوضوء،ص۲۸)
۲؎:احناف کے نزدیک: غسل میں نیت کرنا فرض نہیں بلکہ سنت ہے۔بہار شریعت میں ہے:'' غسل میں نیت کرنا سنت ہے ۔ ''
(بہار شریعت،غسل کی سنتیں،حصہ۲، ص۴۱)
۳؎:احناف کے نزدیک وضو کے چار فرائض ہیں:''(۱) چہرہ دھونا(۲)کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ دھونا (۳) چوتھائی سر کامسح کرنا(۴) ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھونا۔اورنیت کرنا فرض نہیں بلکہ سنت ہے۔''
(فتاوٰی عالمگیری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،ج۱،ص۳)