| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
اَللّٰھُمَّ بَیِّضْ وَجْھِیْ بِنُوْرِکَ یَوْمَ تَبْیَضُّ فِیْہِ وُجُوہُ اَوْلِیَائِکَ وَلَا تُسَوِّدْ وَجْھِیْ بِظُلُمَاتِکَ یَوْمَ تَسْوَدُّ وُجُوْہُ اَعْدَائِکَ۔
ترجمہ :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اپنے نور سے میرے چہرے کو روشن کر دینا جس دن تیرے دوستوں کے چہرے روشن ہوں گے اور اپنے اندھیروں سے میرے چہرے کوسیاہ نہ کرناجس دن تیرے دشمنوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔
اور داڑھی کا خلال کرنا مستحب ہے۔۱؎ پھر بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھوئے اور انگوٹھی کو حرکت دے اور اعضاء کی چمک کو زیادہ کرے کیونکہ روایت ہے کہ'' بے شک (قیامت کا) زیور وضو کی جگہوں تک پہنچے گا ۔''دائیں ہاتھ سے شروع کرے اور یہ کہے:اَللّٰہُمَّ اَعْطِنِیْ کِتَابِیْ بِیَمِیْنِیْ وَحَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا۔
ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرا نامۂ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دینا اور میرا حساب آسانی سے لینا۔ بایاں بازو دھوتے وقت یہ پڑھے:
اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ تُعْطِنِیْ کِتَابِیْ بِشِمَالِیْ اَوْمِنْ وَرَآءِ ظَھْرِیْ۔
ترجمہ: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ تو مجھے میرا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں یا پیٹھ کے پیچھے سے دے۔
پھر پورے سر کو مسح سے گھیرے کہ ہاتھوں کو تر کرکے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے سرے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے سروں سے ملائے اور انہیں سر کے اگلے حصہ پر رکھے اور کھینچتا ہوا گدی تک لے جائے پھر اگلے حصے کی طرف لائے اس طرح تین مرتبہ کرے۔۲ ؎ اور یہ دعا پڑھے:اَللّٰہُمَّ غَشِّنِیْ بِرَحْمَتِکَ وَاَنْزِلْ عَلَیَّ مِنْ بَرَکَتِکَ وَاَظِلَّنِیْ تَحْتَ عَرْشِکَ یَوْمَ لَاظِلَّ اِلاَّ ظِلَّکَ۔
ترجمہ : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ دے اور مجھ پر اپنی برکت نازل فرما اور مجھے اپنے عرش کے سائے کے نیچے رکھناجس دن صرف تیرا سایہ ہوگا ۔ پھر نئے پانی سے کانوں کے ظاہرو باطن کا مسح کرے۔ ۲؎شہادت کی انگلیوں کو کانوں کے سوراخوں میں ڈال کر انگوٹھوں کو کانوں
۱؎: احناف کے نزدیک:''داڑھی کاخلال کرنا سنت ہے۔جیساکہ علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :''منہ دھوتے وقت داڑھی کا خلال کرے بشرطیکہ احرام نہ باندھے ہو،اس کا طریقہ یہ ہے کہ انگلیوں کو گردن کی طرف سے داخل کرے اور سامنے سے نکالے۔''
(درمختار،کتاب الطھارۃ،مطلب السواک،ج۱،ص۲۵۵)
۲ ؎:احناف کے نزدیک پورے سر کا ایک بار مسح کرنا اور اسی پانی سے کانوں کا مسح کرنا سنت ہے۔ جیسا کہ علامہ عبد اللہ بن عمر نسفی علیہ رحمۃاللہ الولی فرماتے ہيں: ''اور ایک بار پورے سر کا مسح کرنا اور اسی پانی سے اپنے کانوں کا مسح کرنا سنت ہے۔''
(کنز الدقائق، کتاب الطہارۃ، ص۵)