| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
اَعُوۡذُ بِکَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿ۙ97﴾وَ اَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحْضُرُوۡنِ ﴿98﴾ ۔
ترجمہ:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! میں اُس کے آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
پھرحدث کو دُور کرنے یا نماز کے مباح ہونے کی نیت کرے اور نیت کو منہ دھونے تک باقی رکھے۔ ۱؎
پھر اپنے دائیں ہاتھ میں ایک چلو پانی لے کر اس سے تین مرتبہ کلی کرے۔۲؎ اگر روزہ دار نہ ہو تو کلی کرنے اور ناک صاف کرنے میں مبالغہ کرے ورنہ روزہ میں آرام سے کرے۔ اوریہ دعاپڑھے:اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی قِرَاءَ ۃِ کِتَابِکَ وَ کَثْرَۃِ الذِّکْرِ لَکَ۔
ترجمہ : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اپنی کتاب کی تلاوت اور اپنے ذکرکی کثرت پر میری مدد فرما۔
پھر ناک صاف کرنے کے لئے چلو میں پانی لے اور ایک ہی چلو سے تین مرتبہ ناک صاف کرے۔۳؎ اور جو کچھ اس میں ہوا سے جھاڑ دے۔پھر یہ دعاپڑھے:اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ رَوَائِحِ النَّارِ وَمِنْ سُوْءِ الدَّارِ۔
ترجمہ :اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں جہنم کی بد بو اور برے گھر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
پھر چہرے کے لئے چلو میں پانی لے اور پیشانی کی سطح سے ٹھوڑی کے نیچے تک لمبائی میں اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک چوڑائی میں دھوئے اور پیشانی کے دونوں کناروں پر بال جھڑنے کی جگہ تک کا دھونا واجب نہیں کیونکہ وہ سر کا حصّہ ہیں اور اس جگہ تک پانی پہنچانا واجب ہے جہاں سے عورتوں کے بال ہٹانے کی عادت ہوتی ہے ۔چار قسم کے بالوں کے اُگنے کی جگہ پر بھی پانی پہنچانا واجب ہے اوروہ مونچھیں ، ابر و،پلکیں اور کان کے مقابل رخسار پر اگنے والے بال ہیں۔ اگرداڑھی گھنی نہ ہو تو داڑھی کی جلد پر پانی پہنچانا واجب ہے۔ نچلے ہونٹ کے نیچے کی جگہ کے بال کے پتلے اور گھنے ہونے میں داڑھی کے حکم میں ہے اور وہ لٹکی ہوئی داڑھی کے ظاہر پر پانی بہائے ،آنکھ کے خانے میں اور سرمہ جمع ہونے کی جگہ میں انگلیاں داخل کرے اور ان کو صاف۱؎: شوافع کے نزدیک وضو میں نیت فرض ہے جبکہ احناف کے نزدیک سنت ہے۔ جیساکہ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی وضو کی سنتیں بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں : ''وضو میں نیت کرنا سنت ہے ۔''
(نورالایضاح،کتاب الطھارۃ، فصل فی سنن الوضوء ،ج۱،ص۳۰)
۲ ؎ :احناف کے نزدیک :تین کلیوں کے لئے تین بار نیا پانی لینا سنت ہے۔ جیساکہ علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :''تین چلو پانی سے تین کلیاں کرے کہ ہر بار مونھ کے ہر پرزے پر پانی بہ جائے اور روزہ دارنہ ہو تو غَرغَرہ کرے۔''
(الدر المختاروردالمحتار،کتاب الطھارۃ،مطلب السواک،،ج۱، ص۲۴۸)
۳؎: احناف کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ''تین چلوسے تین بار ناک میں پانی چڑھائے کہ جہاں تک نرم گوشت ہوتا ہے ہر بار اس پر پانی بہ جائے اور روزہ دار نہ ہو تو ناک کی جڑتک پانی پہنچائے اور یہ دونوں کام داہنے ہاتھ سے کر ے پھر بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرے ۔'' (المرجع السابق )