Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
50 - 415
ہے۔ ڈھیلوں سے صفائی ضروری ہے جبکہ ان کی تعدادکا طاق ہونا مستحب ہے۔ ۱؎
وضو کاطریقہ:
    رسولِ اکرم،نور مجسم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ہمیشہ اسی طرح دیکھا گیا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم جب بھی قضائے حاجت سے فارغ ہوتے تو وضو فرماتے(لیکن تعلیمِ امت کے لئے کبھی اس وقت و ضو نہ بھی فرمایا)۔

    شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان عالیشان ہے:
''لَا یُحَافِظُ عَلَی الْوُضُوْ ءِ اِلَّا مُسْلِمٌ
ترجمہ :مسلمان کے علاوہ کوئی وضو کی پابندی نہیں کرتا۔''
    (سنن ابن ماجۃ ،ابواب الطہارۃ ،باب المحافظۃ علی الوضوء ،الحدیث ۲۷۷،ص۲۴۹۴)
    وضو کی ابتداء مسواک سے کرنی چاہے۔ سرکارِ والا تَبار،بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے:
صَلَا ۃٌ عَلٰی اَثْرِ سِوَاکٍ اَفْضَلُ مِنْ خَمْسٍ

وَّ سَبْعِیْنَ صَلَاۃً بِغَیْرِ سِوَاکٍ
ترجمہ: مسواک کرکے پڑھی جانے والی نمازبغیر مسواک کئے پڑھی جانے والی نماز سے پچھتر(۷۵) درجے افضل ہے ۔
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی ،الرقم۱۷۹۹۔مَسْلَمَۃُ بْنُ عَلِیٍّ اَبُو سَعِیدٍ الخُشَنِیُّ الشَّامِیُّ،ج۸،ص۱۷،بتغیرٍ)
    پھر وضو کے لئے بیٹھے اور
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھے۔

    تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمان والاشان ہے :
لَا وُضُوْءَ لِمَنْ لَّمْ یُسَمِّ اللہَ تَعَالٰی
ترجمہ :جو شخص بسم اللہ نہ پڑھے اس کا وضو (کامل) نہیں۔''
 (جامع الترمذی ،ابواب الطہارۃ ،باب ماجاء فی التسمیۃ عند الوضوء ،الحدیث۲۵،ص۱۶۳۲،لم یسم اﷲ:بدلہ:لم یذکراسم اﷲ)
۱؎ :احناف کے نزدیک:پاخانہ کے بعد مرد کے لئے ڈھیلوں کا استعمال کرنا مستحب ہے۔ جیساکہ فتاوی الہندیہ میں ہے:''پاخانہ کے بعد مرد کے لئے ڈھیلوں کے استعمال کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ گرمی کے موسم میں پہلا ڈھیلا آگے سے پیچھے کو لے جائے اور دوسرا پیچھے سے آگے کی طرف اور تیسرا آگے سے پیچھے کو اور 

جاڑوں میں پہلاپیچھے سے آگے کو اور دوسرا آگے سے پیچھے کو اور تیسر اپیچھے سے آگے کو لے جائے۔ڈھیلوں کی کوئی تعداد معین سنت نہیں بلکہ جتنے سے صفائی ہو جائے ،تو اگر ایک سے صفائی ہو گئی سنت ادا ہو گئی اور اگر تین ڈھیلے لئے اور صفائی نہ ہوئی سنت ادا نہ ہوئی، البتہ مستحب یہ ہے کہ طاق ہوں اور کم سے کم تین ہوں اور اگر ایک یا دو سے صفائی ہو گئی تو تین کی گنتی پوری کرے اور اگر چار سے صفائی ہو تو ایک اور لے کہ طاق ہو جائیں۔''
 (الفتاوی الہندیہ،کتاب الطھارۃ،الباب السابع فی النجاسۃ واحکامہا، الفصل الثالث،ج۱،ص۴۸)
Flag Counter