(صحیح البخاری ،کتاب الوضوء ،باب ما یقول عند الخلاء ،الحدیث۱۴۲،ص ۱۵)
اور نکلنے کے بعد یہ دعا پڑھے :
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّیْ مَا یُؤْذِیْنِیْ،وَاَبْقٰی فِیَّ مَا یَنْفَعُنِیْ
ترجمہ :تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے ایذاء دینے والی چیز مجھ سے دور کی اور نفع دینے والی چیز کو مجھ میں باقی رکھا۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ ،کتاب الطھارات ،باب ما یقول اذا خرج من المخرج ،الحدیث۶،ج۱،ص۱۲بتغیرٍ )
بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت اس سے باہر رہ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرے اوربیٹھنے سے پہلے ڈھیلوں کو گن لے اورقضائے حاجت کی جگہ پانی سے استنجاء نہ کرے(یہ اس وقت ہے جب کسی زمین یا کھیتی وغیرہ میں قضائے حاجت کرے کیونکہ پانی سے نجاست پھیلنے کا خدشہ ہے) کھانس کر، تین مرتبہ جھاڑ کر اور عضو مخصوص کے نچلے حصے پر ہاتھ پھیر کر پیشاب نکلنے کا اطمینان کرے اس پر وسوسہ غالب آجائے تو چاہے کہ اپنی شلوار وغیر ہ کی میانی پر پانی کے کچھ چھینٹے مارلے۔۱؎ اور حدیث ِمبارکہ میں ہے کہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایسا ہی کیا( یعنی پانی کے چھینٹے مارے)۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب الطھارۃ ،باب فی الانتضاح ،الحدیث۱۶۷،ص۱۲۳۴)
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے لید اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا۔
(صحیح مسلم ،کتاب الطہارۃ،باب الاستطابۃ ،الحدیث۶۰۷،ص۷۲۳)
اورا ستنجاء تین پتھروں سے کرے اور مستحب یہ ہے کہ پتھر اور پانی کو جمع کرے(یعنی بعد میں پانی کا استعمال کرے) پتھر کا استعمال یوں کرے کہ اسے پچھلے مقام پر رکھ کر کھینچتا ہوا آگے کی طرف لے آئے اگر پیشاب گاہ کے گرد پھیرنے پر قادر ہو تو یہ بہتر
۱؎:امیرِ اہلسنت،بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علاَّمہ مولانامحمد الیاس عطارؔ قادری مد ظلہ العالی اپنی کتاب ''نماز کے احکام'' میں وضو کے مستحبات بیان کرتے ہوئے نقل فرماتے ہیں: ''بعد وضو میانی (یعنی پاجامہ کا وہ حصہ جو پیشاب گاہ کے قریب ہوتا ہے) پر پانی چھڑکنا(پانی چھڑکتے وقت میانی کو کرتے کے دامن میں چھپائے رکھنا مناسب ہے نیز وضو کرتے وقت بھی بلکہ ہروقت میانی کو کرتے کے دامن یاچادر وغیرہ کے ذریعہ چھپائے رکھنا حیا کے قریب ہے)۔'' (نمازکے احکام، وضوکاطریقہ،ص۱۹)