| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ان مراتب میں سے ہر ایک مرتبہ اپنے بعد والے مرتبہ میں داخل ہونے کے لئے شرط ہے اس لئے سب سے پہلے ظاہر کو، پھر اعضاء کو، اس کے بعد دل کو اور پھر باطن کو پاک کیا جائے اور یہ گمان نہ کیا جائے کہ طہارت سے مراد صرف ظاہری طور پر پاک ہونا ہی ہے کیونکہ اس سے مقصود فوت ہو جائے گا اور یہ بھی گمان نہ کیا جائے کہ یہ مراتب صرف خواہش کرنے سے آرزو کرنے اور آسانی سے حاصل ہو جائیں گے بے شک اگر تو ساری زندگی بھی اس کے حصول میں کمر بستہ رہے تو صرف بعض مقاصد میں ہی کامیابی پائے گا۔
احداث سے طہارت کابیان:
یہ وضو، غسل اور تیمم ہے اور ان سب سے پہلے استنجاء ہے اب ہم ان سب کا طریقہ آداب و سنتوں کے ساتھ بیان کریں گے لیکن ابتدا قضائے حاجت سے کریں گے کیونکہ وہ وضو کا سبب ہے۔
قضائے حاجت کے آداب:
انسان کو چاہے کہ قضائے حاجت کے لئے صحراء یا کھلی جگہ میں لوگوں کی نظروں سے دور جائے اور اگر کوئی چیز میسر ہو تو اس کے ساتھ پر دہ کرے اور بیٹھنے کی جگہ کے قریب ہونے سے قبل اپنا سترظاہر نہ کرے نیز قبلہ کی طرف چہرہ کرے نہ پیٹھ اور نہ ہی سورج اور چاند کی طرف رخ کرے لیکن اگر گھر میں ہو تو کر سکتا ہے اور گھر میں ہوتے ہوئے بھی قبلہ رخ ہونے یا پیٹھ کرنے سے بچنا مستحب ہے۔ ۱؎ ٹھہرے ہوئے پانی میں ، پھل دار درختوں کے نیچے اور بِلوں(یعنی سوراخوں) میں پیشاب نہ کرے۔ اسی طرح سخت جگہ اور ہوا کے رخ پر بھی پیشاب نہ کرے تا کہ اس کے چھینٹوں سے بچ سکے۔
بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت بایا ں پاؤں پہلے اندر رکھے اور نکلتے وقت پہلے دایاں پاؤں نکالے اور کھڑا ہو کر پیشاب نہ کرے اور نہ ہی غسل خانہ میں پیشاب کرے کیونکہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ غیب نشان ہے:''عَامَّۃُ الْوَسْوَاسِ مِنْہُ ترجمہ :عام طور پر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔''(سنن ابی داؤد ،کتاب الطہارۃ ،باب فی البول فی المستحم ،الحدیث۲۷،ص۱۲۲۴)
۱؎:ہم احناف کے نزدیک: قبلے کی طرف رخ یا پیٹھ کرنا مطلقاًمنع ہے ،چاہے میدان میں ہو یا بند کمرے میں۔جیسا کہ علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : '' پاخانہ یا پیشاب كرتے وقت یا طہارت کرنے میں نہ قبلہ کی طرف منہ ہو نہ پیٹھ اور یہ حکم عام ہے چاہے مکان کے اندر ہو یا میدان میں اور اگر بھول کر قبلہ کی طرف منہ یا پُشت کر کے بیٹھ گیاتویاد آتے ہی فوراً رُخ بدل دے، اس میں امیدہے کہ فوراً اس کے لئے مغفرت فرمادی جائے۔''
(الدرالمختارورد المحتار،کتاب الطھارۃ،فصل الاستنجاء،مطلب فی الفرق بین الاستبراء۔۔۔۔۔۔الخ،ج۱،ص۶۰۸)