| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
وہ اس حوض کوثر پر بھی ایمان لے آئے جس پر لوگ حاضر ہوں گے اور وہ ہمارے نبی حضرت سیِّدُنامحمد مصطفٰی،احمد ِمجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاحوض ہے، مؤمنین جنت میں داخل ہونے سے پہلے اور پل صراط پرسے گزرنے کے بعد اس سے پئیں گے جس نے اس سے ایک گھونٹ بھی پی لیا وہ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں رہے گا،اس کی چوڑائی ایک مہینے کی مسافت ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اس کے گرد پیالے رکھے ہوں گے جن کی تعداد آسمان کے ستاروں جتنی ہے اس میں دوپرنالے ہیں جو کوثرسے اس میں گرتے ہیں۔
(صحیح مسلم ،کتاب الفضائل ،باب اثبات حوض۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۵۹۷۱/۵۹۸۹/ ۵۹۹۰، ص۱۰۸۴ ۔۱۰۸۵بتغیرٍ قلیلٍ)
حساب وکتاب پر ایمان لانا:
بندے کا حساب و کتاب پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ اعتقاد رکھنا کہ حساب و کتاب،پوچھ گچھ اور در گزر کے اعتبار سے لوگوں کے مختلف درجے ہوں گے اور اس بات پر ایمان لائے کہ کچھ لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے اور وہ مقربین بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ہوں گے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ جس نبی سے چاہے گا تبلیغ رسالت کے بارے میں پوچھے گا اور جس کافر سے چاہے گارسولوں کو جھٹلانے پر اس کا مؤا خذہ فرمائے گا، بدعتی لوگوں سے سنت کے بارے میں اور مسلمانوں سے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔
اس بات کا اعتقاد رکھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو حید پر ایمان لانے والے گنہگار مسلمانوں کو سزا کے بعد جہنم سے نکالے گا حتیّٰ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سے کوئی بھی موحِّد جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا۔شفاعت انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا:
اس بات پر ایمان لائے کہ انبیاء کرام علیہم السلامشفاعت فرمائیں گے پھر علما ء کرام پھر شہداء عظام پھر سب مؤمنین اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں اپنے مرتبہ و مقام کے اعتبار سے شفاعت کریں گے اور جو مؤمن کسی سفارش کرنے والے کے بغیر رہ جائے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل و کرم سے اسے جہنم سے نکالے گا پس جہنم میں کوئی مؤمن باقی نہیں رہے گا بلکہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ بھی جہنم سے نکال لیاجائے گا۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان پر ایمان لانا:
وہ صحابہ کرام کی فضیلت اور ان کی ترتیب پر بھی ایمان لائے وہ یہ کہ نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بعد سب سے افضل امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں پھرامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھرامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس کے بعدامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہیں