| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
تمام صحابہ کرام کے بارے میں اچھا عقیدہ رکھے اور تمام صحابہ کرام کی اسی طرح تعریف کرے جس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان کی تعریف کی ہے اور یہ تمام باتیں احادیث میں آئی ہیں اور آثار اس پر گواہ ہیں جو شخص یقین کے ساتھ ان باتوں پر اعتقاد رکھے وہ اہل حق اور اہل سنت میں سے ہے وہ گمراہ و بدعتی فرقے سے الگ ہے۔'' ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے کمال یقین اور دین میں ثابت قدمی کا سوال کرتے ہیں، بے شک وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔''
تدریجاًرہنمائی کرنے کی وجہ:
جان لو !بچہ فطری طور پر اپنی ابتدائی تربیت کے دوران بغیر کسی دلیل کے حق کو قبول کرنے کی استعداد رکھتا ہے اس لئے چاہے کہ اس کو اپنے عقائد سے واقفیت کرانی چاہئے تاکہ وہ اسے یاد کرلے، اس کے بعد آہستہ آہستہ وہ اسے سمجھنے اور سینے میں اتارنے لگے گا پھر اسے ان عقائد کو دلائل سے ثابت کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔پھر عقلمند کو چاہئے کہ وہ بقدرِ ضرورت ہی دلائل طلب کرے اور ضرورت یہ ہے کہ اسے کوئی شبہ لاحق ہو تو اس چیز کی تلاش میں مشغول ہو جس سے اس کا شبہ جاتا رہے ۔ جہاں تک ابتداء علم کلام میں غور و فکر کا تعلق ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی ناتجربہ کار شخص سمندر میں تیرنے کے لئے کو د پڑے کیونکہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ شبہ کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے اعتقاد سلامت نہیں رہتا ۔ہاں! لوگوں میں سے کوئی ایسا ماہر شخص ہونا ضروری ہے جو ضرورت پڑنے پر بدعتیوں کا رداور شبہات کا ازالہ کر سکے۔
اسلام کا معنٰی:
اسلام کا معنٰی ہے'' اطاعت و تسلیم کرنا'' اور ایمان کا معنی ہے'' دل سے قبول کرنا '' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دونوں کا ذکر اکٹھا فرمایا اور دونوں سے ایک ہی چیز مراد ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارشادِ پاک ہے :
فَاَخْرَجْنَا مَنۡ کَانَ فِیۡہَا مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿ۚ35﴾فَمَا وَجَدْنَا فِیۡہَا غَیۡرَ بَیۡتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿ۚ36﴾
ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس شہر میں جو ایمان والے تھے نکال لئے تو ہم نے وہاں ایک ہی گھر مسلمان پایا۔ (پ 27، الذٰر یٰت:35،36)
یعنی وہاں پر مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر تھا۔
ایک دوسرے مقام پر ان دونوں کا ذکر فرمایا اور دونوں سے الگ الگ معنی مراد لئے ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان ہے:قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمْ تُؤْمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسْلَمْنَا
ترجمۂ کنزالایمان:گنوار بولے ہم ایمان لائے تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے ہاں یوں کہو کہ ہم مطیع ہوئے۔ (پ26 ،الحُجُرٰت:14)
یعنی تم نے اطاعت کا دم بھرا ہے مگر ابھی تک تمہارے سینے نہیں کھلے۔