Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
44 - 415
کلمہ شہادت کے دوسرے حصّے رسالت کا بیان
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اُمِّی ،ہادی ،قریشی رسول حضرت سیِّدُنامحمد مصطفی ،احمد مجتبیٰ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کواپنی رسالت عطا فرما کر تمام عرب و عجم اور جن وانس کی طرف بھیجا پس آپ کی شریعت کے ذریعے سابقہ شریعتوں کو منسوخ کر دیا سوائے ان باتوں کے جنہیں باقی رکھا گیا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو تمام انبیا ء کرام علیہم السلام پر فضیلت بخشی اور آپ کو تمام انسانوں کا سردار بنایا اورتوحید یعنی
لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ
کی گواہی کو اس وقت تک قبول نہ فرمایا جب تک اس کے ساتھ شہادت رسالت یعنی
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ
ملا ہوا نہ ہو اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دُنیوی و اُخروی امور کے بارے میں جو کچھ بتایا ان سب کی تصدیق مخلوق پر لازم فرمائی۔

    کسی شخص کا ایمان اس وقت تک قبول نہ ہوگا جب تک وہ ان باتوں پر ایمان نہ لائے جو نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے موت کے بعد کے حالات کے متعلق ارشاد فرمائیں؛ ان میں سے پہلی بات منکر نکیرکے سوالات ہیں، وہ دونوں فرشتے انتہائی مہیب و خوفناک ہیں، وہ بندے کو قبر میں سیدھا کرکے بیٹھا دیتے ہیں اور بندہ اس وقت روح و جسم کے ساتھ ہوتا ہے۔وہ اس سے توحید و رسالت کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرانبی کو ن ہے؟ وہ دونوں قبر کی آزمائش ہیں اور ان کے سوالات موت کے بعد پیش آنے والی پہلی آزمائش ہے۔

    بندے کو عذاب قبر پر ایمان لانا ضروری ہے کیونکہ وہ حق ہے اور روح و جسم پر اس کی منشاء کے مطابق حکمت و عدل ہے۔
بعث بعد الموت پر ایمان لانا:
    وہ مر کر زندہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان ہڈیوں کو جو بوسیدہ ہو چکی ہوں گی زندہ فرمائے گاجیساکہ پہلی مرتبہ انہیں پیدا کیا تھا اور روح کو جسم کی طرف لوٹا ئے گا جس طرح وہ موت سے پہلے دنیا میں تھا اور اسے صحیح و سالم انسان کی شکل دے گا اور میزان پر ایمان لائے جو دوہتھیلیوں اور ایک زبان والاہوگا اور وہ زمین وآسماں کے طبقات جتنا بڑا ہوگا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت سے اس میں اعمال تولے جائیں گے اور باٹ(وزن کرنے کا آلہ) اس دن ذرے اور رائی کے دانے کے برابر ہوں گے تاکہ پورا پورا انصاف ہو نیکیوں کے درجات ہوں گے فضلِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے اسی قدر پلڑا بھاری ہوگا جبکہ برائیوں کے اعمال نامے ظلمت کے پلڑے میں رکھے جائیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عدل سے پلڑا ہلکا ہوجائے گا۔

    اس بات پر ایمان لانا ضروری ہے کہ قیامت حق ہے اور پل صراط حق ہے، وہ ایسا پل ہے جو جہنم کی پشت پررکھا گیا ہے تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے، اس پر کفار کے پاؤں پھسل جائیں گے اور انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا جبکہ مؤمنین ثابت قدم رہیں گے اور انہیں جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔
Flag Counter