Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
43 - 415
    جب وہ ان صفات سے متصف ہے تو وہ حیات، علم ،قدرت، ارادہ ،سماعت،بصارت اور کلام کے ساتھ زندہ، عالم، قادر ،ارادہ کرنے والا، سننے والا ،دیکھنے والا اور کلام کرنے والا ہے محض ذات کی وجہ سے نہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے افعال:
    اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا جو کچھ موجود ہے وہ اس کے فعل سے پیداہوا اور اس کے عدل کا فیضان ہے کہ وہ نہایت اچھے طریقے پر حددرجہ کامل و تمام اور نہایت درست پیدا ہوا،وہ اپنے افعال میں حکیم اور اپنے فیصلوں میں انصاف کرنے والا ہے لیکن اس کے عدل کو بندوں کے عدل پر قیاس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بندے کے دوسرے کی مِلک میں تصرف کرنے سے ظلم کا تصور بھی ہوسکتا ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں ظلم کا تصور نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی مالک نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا تصرف ظلم بن جائے اس کے سوا جو کچھ ہے خواہ وہ انسان ہو یا جن ،فرشتہ ہو یا شیطان، زمین ہو یا آسمان،حیوانات ہوں یا نباتات و جمادات، جو ہرہو یا عرض،اس چیز کا ادراک ہوتا ہو یا وہ محسوسات میں سے ہو اورہر حادث چیزکو وہ اپنی قدرت سے عدم سے وجود میں لایا ہے اس کے بعد کہ وہ کچھ نہ تھا اسے پیدا کیا ازل سے صرف اور صرف وہی ذات تھی اس کے ساتھ دوسرا نہ تھا پس اس نے اپنی قدرت اور ارادۂ اَزَلی کے اظہارکے لئے مخلوق کو پیدافرمایا اور اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ اَزَل سے یہ طے ہوچکاتھانہ اس لئے کہ وہ مخلوق کا محتاج و ضرورت مند تھا ۔اس نے مخلوق کو پیدا کرکے اور مکلف بنا کر احسان فرمایایہ عمل اس پر لازم نہ تھا اس نے انعامات و اصلاح سے نوازا لیکن یہ بات اس پر لازم نہ تھی اگر وہ اپنے بندوں کو طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کرتا تو اس کی طرف سے عدل ہوتا ہے اوربندوں کو اطاعت پرجو ثواب عطا فرماتا ہے وہ محض اس کے کرم سے ہے نہ کہ وہ اس پر لازم ہے اس نے اپنا حق عبادات کی صورت میں انبیاء کرام علیہم السلام کی مبارک زبانوں سے لازم کیا محض عقل کی وجہ سے نہیں۔ اس نے رسولوں کو بھیجا اور واضح معجزات کے ذریعے ان کی سچائی کو ظاہر کیا۔ انہوں نے اس کے ہرامر و نہی اور وعدہ و و عید کو لوگوں تک پہنچایا پس جو کچھ انبیاء کرام علیہم السلام لائے لوگوں پر اس کی تصدیق واجب ہے۔
Flag Counter