| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
نہیں نکل سکتا وہ جس چیز کو چاہتا ہے ہوجاتی ہے اور جسے نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتی۔ وہی ابتداء ًپیداکرنے والا اور دوبارہ (یعنی قرب قیامت میں ) لوٹانے والا ہے۔جو چاہتا ہے کر تا ہے اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس کے فیصلے کو کوئی پیچھے نہیں کر سکتا ۔بندے کے لئے اس کی توفیق و رحمت کے بغیر اس کی نافرمانی سے بچنا ممکن نہیں ۔اس کی اطاعت کی قوت بھی اسی کی محبت وارادہ سے حاصل ہوتی ہے اگر تمام انسان، جن، فرشتے اور شیطان دنیا میں کسی ذرہ کو حرکت دینے پر اتفاق کر لیں یا اسے ٹھہرا دیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ارادہ ومشیَّت کے بغیر وہ اس سے عاجز رہ جائیں گے اس کاا رادہ دیگر صفات کے ساتھ اس کی ذات میں قائم ہے۔ وہ ہمیشہ سے اس سے موصوف ہے۔ اس نے اَزَل میں اشیاء کے وجو د کا ان کے اوقات پر ظہور کاا رادہ فرمایا چنانچہ ہر چیز اس کے ازلی ارادہ کے مطابق بغیر کسی تقدیم و تاخیر کے اپنے وقت پر ظاہرہوئی۔ اس نے امور کی تدبیرسوچ بچار اور وقت کی تاخیرکے بغیر فرمائی اس لئے اسے کوئی ایک کام دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی سماعت وبصارت:
اللہ عَزَّوَجَلَّ سمیع و بصیر ہے ۔وہ سنتا اور دیکھتا ہے۔ اس کی سماعت سے کوئی سنی جانے والے چیز اگرچہ وہ پو شیدہ ہو باہر نہیں اور باریک سے باریک چیز بھی اس کی بصارت سے غائب نہیں۔ اس کی سماعت میں دوری اور اندھیرا رکاوٹ نہیں، وہ آنکھوں کی پتلیوں اور پلکوں کے بغیر دیکھتا ہے اور کانوں اور ان کے سوراخ کے بغیر سنتا ہے جیسے وہ دل کے بغیر جانتا ،کسی عضوکے بغیر پکڑتا اور کسی آلہ کے بغیر پیدا کرتا ہے کیونکہ اس کی صفات مخلوق کی صفات جیسی نہیں جیسے اس کی ذات مخلوق کی ذات کی طرح نہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کاکلام:
اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے اَزَلی وقدیم کلام کے ساتھ کلام فرمانے والا،حکم دینے والا ، منع کرنے والا، وعدہ کرنے والااورو عید بتانے والا ہے اوراس کاکلام اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور مخلوق کے کلام کے مشابہ نہیں وہ ایسی آواز نہیں جو ہوا کے کھینچنے یا اجسام کی رگڑ سے پیدا ہوتی ہے اور نہ ایسے حروف کے ساتھ جو ہونٹوں کے بند ہونے یا زبان کے حرکت کرنے سے پیداہوتے ہیں۔
بے شک قرآن مجید، تورات،انجیل اور زبور اس کی کتابیں ہیں جو اس نے اپنے رسولوں علیہم السلام پر ناز ل فرمائیں قرآن مجید زبانوں سے تلاوت کیا جاتا، مصاحف میں لکھا جاتا اور دلوں میں محفوظ ہوتا ہے اس کے باوجود یہ کلام قدیم ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات کے ساتھ قائم ہے ،دلوں اور اوراق کی طرف منتقل ہونے کے باوجود اس کی ذات سے جدا نہیں ہوا حضرت سیِّدُنا موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام آواز اور حرف کے بغیرسنا جس طرح نیک لوگ( بروزِقیامت )اللہ عَزَّوَجَلَّ کی زیارت یوں کریں گے کہ نہ تو وہ جوہرہوگا (یعنی جو خود قائم ہو) نہ عرض (یعنی جو دوسری چیز کے ساتھ قائم ہو)۔