Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
41 - 415
طرح وہ زمانے کے دائرے میں محدود ہونے سے پاک ہے بلکہ وہ تو زمان و مکان کی تخلیق سے پہلے بھی موجود تھا اور اب بھی پہلے کی طرح موجودہے اوررہے گا۔وہ اپنی صفات کے ساتھ مخلوق سے ممتاز ہے۔ اس کی ذات میں کوئی دوسرا نہیں اوروہ کسی دوسری ذات میں نہیں۔ وہ تبدیلی اور انتقال سے پاک ہے۔ حوادث و عوارض اس پر وارد نہیں ہوتے بلکہ وہ ہمیشہ بزرگی کے ساتھ متصف اور زوال سے منزہ رہتا ہے۔ وہ اپنی صفات کمالیہ میں مزید کمال حاصل کرنے سے بے نیاز ہے۔ اس کی ذات عقل کے اعتبار سے معلوم و موجود ہے جنت میں نیک لوگ اس کے فضل و کرم اور مہربانی سے آنکھوں کے ساتھ اس کی زیارت کریں گے اور اس کے جمال اقدس کو آنکھوں کے ساتھ دیکھنے سے اس کی نعمتوں کی تکمیل ہوگی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حیات و قدرت:
    بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ زندہ وقادر ہے ،جبار و غالب ہے، اسے کوئی عاجزی و کوتاہی لاحق نہیں ہوتی۔ نہ اسے اونگھ و نیند آتی ہے نہ اس پر فنا و موت طاری ہوتی ہے ۔وہ بادشاہی و ملکوت کا مالک اور عزت و جبروت والا ہے، اسی کے لئے حکومت و غلبہ ہے، پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کے اختیار میں ہے۔ تمام آسمان اسی کے قابو میں ہیں وہ پیدا کرنے اور ایجاد کرنے میں یکتا ہے۔ کسی چیز کو ابتداء ً وجود دینے اور کسی نمونہ کے بغیر پیدا کرنے میں وہ یکتا ہے۔ اس نے مخلوق اور ان کے اعمال کو پیدا کیا اور ان کے رزق اور موت کا تعین کیا۔ نہ اس کی مقدورات کا شمار ہے نہ ہی معلومات کی انتہا ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کاعلم :
    وہ تمام معلومات کا عالم ہے، زمین کی تہہ سے لے کر آسمانوں کی بلندی تک جو کچھ جاری ہے سب کو گھیرنے والا ہے۔ اس کے علم سے زمین وآسمان کا کوئی ذرہ باہر نہیں بلکہ سخت اندھیری رات میں سیاہ چٹان پر چلنے والی چیونٹی کے چلنے کی آوازکو بھی جانتا ہے اور وہ فضاء میں ایک ذرے کی حرکت کو بھی جانتا ہے۔ پوشیدہ امور، دلوں کے وسوسوں ،خطرات اور پوشیدہ باتوں کا علم رکھتا ہے اسکا علم قدیم وازلی ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اس علم کے ساتھ متصف ہے ۔اس کا علم نیا نہیں اور نہ ہی وہ اس کی ذات میں آنے کی وجہ سے حاصل ہو ا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارادہ:
    بے شک وہ کائنات کا ارادہ فرمانے والااور نئے پیدا ہو نے والے امور کی تدبیر فرمانے والا ہے اس کی بادشاہی و ملکوت میں تھوڑی یا زیادہ،چھوٹی یا بڑی، بھلائی یا برائی ،نفع یا نقصان، ایمان یا کفر، عرفان یا انکار، کامیابی یا ناکامی، اطاعت یا نافرمانی ہر چیز اسی کے فیصلے اور قدرت اوراسی کی حکمت ومشیَّت سے واقع ہوتی ہے۔پلک کا جھپکنا اور دل کا خیال اس کی مشیَّت سے باہر
Flag Counter