| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات مقدسہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی مثل نہیں،بے نیاز ہے اس کا کوئی مقابل نہیں، تنہا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں، قدیم ہے اس سے پہلے کوئی نہیں ،وہ ہمیشہ سے ہے اس کی ابتداء نہیں ،اس کا وجود ہمیشہ رہے گاجس کی انتہاء نہیں،ابدی ہے اس کی نہایت نہیں،قائم ہے اس کے لئے اختتام نہیں، ہمیشہ کے لئے ہے اس کے لئے ٹوٹنا نہیں ،وہ ہمیشہ صفاتِ جلالیہ سے متصف ہے اور رہے گا، مدتوں اور زمانوں کے گزر جانے سے اس کے لئے ختم ہونا اور جدا ہونا نہیں بلکہ وہی اوّل و آخر ہے، وہی ظاہر و باطن ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر عیب سے پاک ہے:
وہ نہ جسم صوری ہے نہ جوہر ہے جو کسی حد اور مقدار میں آ سکے وہ جسموں کی مثل نہیں نہ اندازہ کرنے میں اور نہ تقسیم قبول کرنے میں، نہ وہ جوہر ہے نہ اس میں کوئی جوہر آسکتا ہے، نہ وہ عرض ہے اور نہ اس میں اعراض داخل ہوسکتے ہیں بلکہ وہ کسی موجود کی مثل نہیں اور نہ کوئی موجود اس کی مثل ہے نہ کوئی چیز اس کی مثل ہے اور نہ وہ کسی چیز کی مثل ہے نہ ہی وہ مقدار میں آتا ہے نہ کنارے اس کا احاطہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ جہات کے احاطہ میں آتا ہے ، زمین و آسماں اس کو گھیر نہیں سکتے اور اس نے اپنی شان کے لا ئق عرش پر استواء فرمایا جیساکہ اس نے فرمایا ہے اور اس طریقہ پر جو اس کی مراد ہے وہ ایسا استواء ہے جو چھونے ،قرار پکڑنے، ٹھہرنے،داخل ہونے اور منتقل ہونے سے پاک ہے۔ عرش اُسے نہیں اٹھاتا بلکہ عرش اور اس کو اٹھانے والے اس کی قدرت سے قائم ہیں ا ور اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں،وہ عرش و آسمان اور تحت الثریٰ کی حدوں سے بالاتر ہے، اوریہ بالا ترہونا ایسا نہیں جس کی وجہ سے وہ عرش و آسمان کے قریب اور زمین و تحت الثریٰ سے دور ہو بلکہ وہ عرش کے درجات سے بالا ہے جیسے وہ تحت الثریٰ کے درجات سے بالا ہے، اس کے باوجود وہ ہر چیز کے قریب ہے، وہ بندے سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ہر چیز اس کے سامنے ہے کیونکہ اس کا قرب اجسام کے قرب کی طرح نہیں جیسے اس کی ذات اجسام کی ذات کی مثل نہیں اور وہ کسی چیز میں حلول نہیں کرتا، نہ کوئی چیز اس میں حلول کرتی ہے ،وہ اس بات سے بلند ہے کہ کوئی مکان اس کاا حاطہ کرے جس