| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
جان لو! دین دار عالم کے زیادہ لائق یہ بات ہے کہ وہ اپنے کھانے، لباس، رہائش اور اپنی دنیوی زندگی سے متعلق تمام چیزوں میں میانہ روی اختیار کرے۔ آسودگی اور عیش و عشرت کی طرف توجہ نہ دے اور نہ اس میں مبالغہ کرے اگر چہ دنیا سے زہد اختیار کرنے میں مبالغہ نہ کرے اور علماء کو چاہے کہ جہاں تک ممکن ہو حکمرانوں اور دنیا داروں کے پاس جانے سے بچيں تاکہ ان کے فتنوں سے محفوظ رہ سکيں۔
عقل اوراس کے شرف کا بیان :
عقل علم کا منبع ہے اس کی فضیلت کے متعلق سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے :
''اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللہُ الْعَقْلَ
ترجمہ :اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سب سے پہلے عقل کو پیداکیا۔''پھر اس سے فرمایا:'' آگے بڑھ۔''وہ آگے بڑھی پھر فرمایا:''پیچھے ہٹ۔'' وہ پیچھے ہٹی پھر فرمایا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم !میں نے کوئی ایسی مخلوق پیدا نہیں کی جو میرے نزدیک تجھ سے بڑھ کر معزز ہو میں تیرے سبب پکڑکروں گا، تیری وجہ سے عطا کروں گا ،تیرے سبب ثواب دوں گا اور تیری وجہ سے عذاب دوں گا۔''
(حیلۃ الاولیاء، سفیان بن عیینۃ، الحدیث۱۰۸۹۴،ج۷،ص۳۷۲،بتغیرٍ قلیلٍ)
حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے: ''میں نے جبرائیل( علیہ السلام )سے دریافت کیا : ''سرداری کس چیز میں ہے؟تو انہوں نے عرض کی: ''عقل میں۔''
(فردوس الاخبار للدیلمی ،باب السین ،الحدیث۳۲۳۴،ج۱،ص۴۳۳)
عقل کی حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسی طبیعت ہے جس کے سبب معلوماتِ نظریہ کا ادراک ہوتا ہے گویا یہ ایسا نور ہے جو دل پر ڈالا جاتا ہے اور جس کے ذریعے سے چیزوں کو جاننے کی استعداد پیدا ہوتی ہے اور طبیعتوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے عقل میں بھی تفاوت پایا جاتا ہے۔(وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ)