Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
399 - 415
أُشْدُدْ حَیَازِیْمُکَ لِلْمَوْتِ		فَإنَّ الْمَوْتَ لَاقِیْکُمَا

وَلَاتَجْزِعْ مِنَ الْمَوْتِ			إذَا دَخَلَ بِوَادِیْکُمَا
     ترجمہ :(۱)۔۔۔۔۔۔ موت کے لئے تیاری کرو کیونکہ موت تمہارے پاس ضرور آئے گی۔

    (۲)۔۔۔۔۔۔ اور موت سے خوف نہ کھاؤ جب وہ تمہاری وادی میں اُترے۔

     جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ چھوٹے دروازے تک پہنچے، تو ابنِ مُلجم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پرحملہ کردیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا باہر تشریف لائیں اوروہ کہہ رہیں تھیں:''نمازِفجر کے وقت میرے ساتھ کیا ہوا، میرے خاوند (حضرت سَیِّدُناعمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بھی صبح کی نماز میں شہید ہوئے اور میرے والد ماجد کو بھی نمازِفجرکے وقت شہید کیا گیا۔

     ایک قریشی کا بیان ہے:''جب ابنِ مُلجم نے حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم پرحملہ کیا تو آپ نے فرمایا: ''رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا۔''
قریبُ المرگ (مرنے کے قریب) لوگو ں کے اقوال
حضرت سَیِّدُنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وقتِ وصال :
    جب حضرت سَیِّدُنا امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہونے لگا ،تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''مجھے بٹھا ؤ۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بٹھایا گیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر وتسبیح بیان کرنے لگے ،پھرروتے ہوئے فرمایا: ''اے معاویہ! اب بڑھا پے او رکمزور ی کے وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکریادآیا، اُس وقت کیا تھا جب جوانی کی شاخ تروتا زہ تھی۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قدر روئے کہ آپ کی آواز بلند ہوگئی اوربارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کرنے لگے: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! اس گناہ گار سخت دِل بوڑھے پررحم فرما، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میری لغزش سے در گزر فرما،میری خطا معاف فرما اوراپنے حلم وبردباری سے اس بندے کو اپنی طر ف لوٹا جو تیرے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتا اور نہ ہی تیرے سوا کسی پر بھروسہ رکھتا ہے ۔''
حضرت سَیِّدُنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وقتِ وصال :
Flag Counter