| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
جب حضرت سَیِّدُنا معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصا ل کا وقت ہوا تو انہوں نے عرض کی:'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !میں پہلے تجھ سے ڈرا کرتا تھا اور آج تجھے سے اُمیدرکھتا ہوں، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تو جانتا ہے کہ میں دنیا اور لمبی عمر کو اس لئے پسند نہیں کرتا تھا کہ اس میں میرے لئے نہریں جاری ہوں اور درخت لگے ہوں بلکہ میں تو اسے اس لئے پسند کرتا تھا تاکہ گر میوں کے موسم میں پیاس پرصبرکروں ، زمانے کی تکالیف برداشت کروں اور مجالسِ ذکر میں علماء کے سامنے دوزانو بیٹھوں ۔''
حضرت سَیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کا وقتِ وصال :
حضرت ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے بوقتِ وصال پوچھا گیا:''آپ کی کیا خواہش ہے؟''آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا :''میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے ایک لمحہ پہلے مجھے اپنی موت کا علم ہو جائے۔''
قبرکی حالت اورقبروں کے پاس بزرگوں کے اقوال:
حضرت سَیِّدُنا ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، ایک شخص نے پوچھا:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! لوگوں میں سے سب سے بڑا زاہد کون ہے؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جوشخص قبراورگلنے سڑنے کونہ بھولے، دنیا کی زینت کو چھوڑدے، فنا ہونے والی پر باقی رہنے والی کو تر جیح دے اور آنے والے کل کو اپنی زندگی میں شمار نہ کرے نیزاپنے آپ کو قبروالوں میں شمار کرے ۔''
(شعب الایمان للبیہقی،باب فی الزھد وقصر الأمل، الحدیث۱۰۵۶۵،ج۷،ص۳۵۵۔۳۵۶،من أھل القبور:بدلہ:فی الموتی)
حضرت سَیِّدُناحسن بن صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب قبرستان کو دیکھتے تو فرماتے:''تمہارا ظاہر کتنا اچھاہے! لیکن مصیبت تو تمہارے اندرہے۔ ''
حضرت سَیِّدُنا داؤدطائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک عورت کے پاس سے گزرے جوایک قبرپررورو کر کہہ رہی تھی:عُدِمَتِ الْحَیَاۃُ وَلَا نِلْتَھَا إذَا أنْتَ فِیْ الْقَبْرِ قَدْ ألْحُدُوْکَ فَکَیْفَ أذُوْقُ طَعْمَ الْکِرَا وَأنْتَ یَمْنَاکَ قَدْ وَسَّدُوْکَ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔تیری زندگی ختم ہو گئی اورتواسے دوبارہ نہ پا سکے گا جب لوگ تجھے قبرمیں دفن کردیں گے ۔
(۲)۔۔۔۔۔۔مجھے نیند کا مزہ کیسے آئے، جبکہ لوگوں نے تجھے دائیں پہلوپر لٹا دیاہے۔
پھراس نے کہا :''اے میرے بیٹے! کاش! مجھے معلوم ہوتا کہ کیڑوں نے تیرا کون سا رخسارپہلے کھایا؟''یہ سن کرحضرت سَیِّدُناداؤدطائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے چیخ ماری اوربے ہوش ہوکرگرپڑے ۔اولاد کی موت کے وقت کے آداب :
جب تمہارا بیٹا یا قریبی رشتہ دارفوت ہوتو موت کو ایک منزل جانو اوریہ خیال کرو کہ وہ شخص سفرمیں تم سے آگے نکل گیا اور تمہیں اس کے پیچھے ضرورجانا ہے یا وہ تجھ سے پہلے وطن لوٹ گیا اورتمہیں اس کے بعد جانا ہے کیونکہ جب تمہیں معلوم ہوگا کہ عنقریب تم نے بھی اس سے ملنا ہے تو تم پر موت گراں نہ ہوگی۔