حضرت سَیِّدُنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے متعلق مشہورحدیث ہے، حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :''میں اپنے بھائی حضرت سَیِّدُناعثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں سلام پیش کرنے حاضر ہوا، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ محصور تھے، میں داخل ہوا، توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے بھائی ! آپ کاآنا مبارک ہو ! بے شک میں نے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو(خواب میں) کمرے کے اس روشن دان سے دیکھا ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم فرمارہے تھے : اے عثمان! ان لوگوں نے تمہارا گھیراؤ کیا ہوا ہے ؟''میں نے عرض کیا :''جی ہاں۔''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسار فرمایا: ''انہوں نے تمہیں پیاسا رکھا ہوا ہے؟'' میں نے عرض کی:''جی ہاں۔''پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایک ڈول میرے قریب کیا جس میں پانی تھا، میں نے خوب سیرہوکرپانی پیا یہاں تک کہ اپنے سینے او رکندھوں کے درمیان اس کی ٹھنڈک محسوس کی۔ پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا: ''اگرتم چاہوتو ان لوگو ں کے خلاف تمہاری مددکی جائے اور اگر چاہو تو ہمارے پاس آکر افطاری کرو۔''میں نے نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس افطارکرنے کوپسند کیا۔'' چنا نچہ اسی روز آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔
جن لوگوں نے حضرت سَیِّدُنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخمی ہونے پر خون میں لت پت دیکھا تھا حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُن سے پوچھا:'' حضرت سَیِّدُنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خون میں لت پت ہوتے ہوئے کیا فرمایا تھا؟''تو انہوں نے جواب دیا:'' ہم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے سنا:'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! حضرت سَیِّدُنا محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اُمَّت کو اتِّفاق واتِّحاد عطا فرما۔''حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ''اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! اگر حضرت سَیِّدُنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ دُعا کرتے ،کہ اللہ مسلمانوں کو اتفاق نہ دے تو مسلمانوں میں قیامت تک اتفاق نہ ہوتا۔ ''