Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
397 - 415
اللہ تعا لیٰ عنہ نے عرض کی: '' حضر ت سَیِّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کو سلام عرض کرر ہے ہیں اور اس بات کی اجازت چاہتے ہیں کہ انہیں ان کے دوستوں کے قرب میں دفن کیا جائے۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ سن کر ارشاد فرمایا:'' یہ جگہ تومیں نے اپنے لئے رکھی تھی لیکن اب میں یہ جگہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایثار کر تی ہوں، انہیں جاکر یہ خوشخبری سنا دو۔''چنانچہ حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اجازت لے کر واپس تشریف لائے۔

     جب حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتایا گیا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما آگئے ہیں توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''مجھے بٹھا دو۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوسہارا دے کر بٹھا دیا گیا۔ پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا: ''اے میرے بیٹے! کیا خبر لائے ہو؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:'' حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہا نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اجازت عطا فرمادی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوش ہو جائیں ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پسندیدہ چیز عطا کردی گئی ۔'' یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''مجھے اس چیز سے زیادہ اور کسی چیز کی فکر نہ تھی ، ألحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ !مجھے میری پسندیدہ چیز مل گئی ہے۔''

    پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' جب میری روح پر واز کرجائے تو مجھے اٹھا کرسرکار ابد ِقرار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے روضۂ اقدس پر لے جانا ، پھر بارگاہِ نبوت میں سلام عرض کرنا اور حضرت سیدتناعائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کرنا:''عمر بن خطاب اپنے دوستو ں کے ساتھ آرام کی اجازت چاہتا ہے ، اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہاں دفن کردینا اور اگر اجازت نہ ملے تو مجھے عام مسلمانوں کے قبر ستان میں دفنادینا ۔''

    پھر اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُناحفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں اور عورتوں نے ان کو چھپارکھا تھا ۔جب ہم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اندر داخل ہوئیں اور کچھ دیرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس روتی رہیں پھر مردوں نے اجازت چاہی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اندر چلی گئیں، ہم نے اندر سے ان کے رونے کی آواز سنی۔آپ کے اصحاب نے عرض کی: ''اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! وصیت فرمائیے اور کسی کو اپنا نائب مقرر کیجئے۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''میں ان حضرات سے زیادہ کسی کو اس امر کا حق دار نہیں سمجھتا ،رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ان سے رضامندی کی حالت میں اس دنیا سے تشریف لے گئے۔پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ ، حضرت سَیِّدُنا عثمان ذوالنورین، حضرت سَیِّدُنا زبیر ، حضرت سَیِّدُنا طلحہ، حضرت سَیِّدُنا سعداور حضرت سَیِّدُنا عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نام لئے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی تمہارے ساتھ موجود رہیں گے لیکن خلافت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔''

    حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:''مجھ سے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا:
''لَیَبْکِ الْإسْلَامُ عَلٰی مَوْتِ عُمَرَ
ترجمہ:حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت پرپورے عالم ِاسلام کو رونا چاہے ۔''
  (المعجم الکبیر، الحدیث۶۱،ج۱،ص۶۷۔۶۸)
Flag Counter