| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنانا ئب مقرر فر مادیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سَیِّدُنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ نامزدفرمایا۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سخت مزاج شخص کو ہمارا خلیفہ نامزد کیا ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو کیا جواب دیں گے ؟'' انہوں نے فرمایا: ''میں عرض کروں گا کہ میں نے تیری مخلوق پر،مخلوق میں سب سے بہترانسان کو اپنا نائب مقررکیا ہے۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ ان دونوں سے راضی ہو،آمین۔
امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاوصال:
حضرت سَیِّدُنا عمروبن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''جس صبح حضرت سَیِّدُنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ پرحملہ کیا گیا،میں وہیں کھڑا تھا، ہمارے درمیان صرف حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے۔ حضرت سَیِّدُنا عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفوں کے درمیان خلا دیکھتے تو فرماتے :اپنی صفیں درست کرلو۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھاکہ صفیں بالکل سیدھی ہوچکی ہیں، نمازیوں کے درمیان بالکل خلا نہیں رہااورسب کے کندھے ملے ہوئے ہیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے ا ور تکبیرتحریمہ کہی۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادتِ کریمہ تھی کہ صبح کی نماز میں اکثر سورۂ یوسف اور سورۂ نحل میں سے قراء َت فرماتے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلی رکعت میں کچھ زیادہ تلاوت فرماتے تاکہ بعدمیں آنے وا لے بھی جماعت میں شامل ہو سکیں، ابھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمازشروع ہی کی تھی کہ ایک مجوسی غلام(ابولؤلؤ) جو پہلی صف میں چھپ کر کھڑا تھااس نے موقع پاتے ہی ایک دو دھاری تیز خنجرسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کردیا۔ حضرت سَیِّدُنا عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز سنائی دی کہ مجھے کسی کُتےّ نے قتل کردیا یا کاٹ لیا ہے وہ مجوسی غلام حملہ کرنے کے بعد پیچھے پلٹا اور بھاگتے ہوئے تیرہ نماز یوں پر حملہ کیا جن میں سے سات شہید ہوگئے ، ایک نمازی نے آگے بڑھ کر اس پر کپڑا ڈالا اور اسے پکڑ لیا، جب اس بدبخت غلام نے دیکھا کہ اب میں پکڑا جاچکاہوں ،تو اپنے ہی خنجرسے خودکشی کر لی۔
مروی ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا:''ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بارگاہ میں چلے جاؤ اور ان سے عرض کرو:'' عمرنے آپ کو سلام بھیجا ہے، امیرالمؤمنین کا لفظ نہ کہنا کیونکہ آج میں مسلمانوں کا امیر نہیں ہوں۔ اور ان سے عرض کر و: عمر اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ اسے اس کے دوستوں کے ساتھ دفن کیا جائے اور حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قرب میں جگہ عطا فرمائی جائے ۔'' حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سلام عرض کیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رور ہی تھیں، آپ رضی