Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
395 - 415
(یعنی پیر)چاشت اور دوپہر کے درمیان وصال فرمایا۔''
صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیہٖ وَعَلٰی آلِہٖ وَأصْحَابِہٖ وَالتَّابِعِیْنَ أجْمَعِیْنَ۔
ترجمہ :آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تمام آل، اصحاب اورتابعین پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمتیں ہوں۔
امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال:
    جب امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وقتِ وصال آیا، توحضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائیں اور آپ نے بطورِ مثال یہ شعرپڑھا :
لَعَمْرُکَ مَا یُغْنِی الثَّرَاءَ عَنِ الْفَتٰی		إذَا حَشْرَجَتْ یَوْماً وَضَاقَ بِھَا الصَّدْرُ
     ترجمہ :آپ کی عمرکی قسم !دولت نوجوان کے کام نہیں آتی جب موت کا دن آجائے اور سینے میں دم گھٹ رہا ہو۔''

    حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چہرے سے کپڑاہٹایا اور فرمایا بات اس طرح نہیں ،بلکہ یوں کہو:
وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔ (پ 26 ، قۤ: 19)

    (پھر فرمایا)میرے ان دو کپڑو ں کو دھوکر ا نہیں میں مجھے کفن دے دینا کیونکہ فوت شدہ کے مقابلے میں زندہ آدمی نئے کپڑوں کا زیادہ حق دار ہے۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہونے لگا اور حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ شعرپڑھا:
وَأبْیَضُ یَسْتَسْقٰی الغَمَامُ بِوَجْھِہٖ		رَبِیْعُ الیَتَامٰی عَصْمَۃٌ لِلْاَ رَامل
    ترجمہ: سفید رنگ والے جن کے چہرے کے سبب بادل برستے ہیں، آپ یتیموں کی بہار اور بیواؤں کا سہارا ہیں۔

تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :''یہ تو نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی شان ہے۔'' صحابۂ کرام علیہم الرضوان آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی:''کیا ہم کسی طبیب کو نہ بلا لائیں جو آپ کا حال دیکھے ؟'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'' طبیب نے مجھے دیکھ لیااور فرمایا ہے کہ میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ ''

     حضرت سَیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور عرض کی: اے ابو بکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ! ہمیں وصیت فرمائیں۔'' آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر دنیا کے خزانے کھول دے گا لیکن تم اس سے ضرورت کے مطابق لینا اور یاد رکھو ! جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پرہے پس اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد شکنی نہ کرنا ورنہ وہ تمہیں منہ کے بل جہنم میں ڈال دے گا۔''

     جب امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طیبعت زیادہ بو جھل ہوگئی۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے چاہا
Flag Counter