Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
394 - 415
کوواپس بلارہاہے، اس طرح کسی کونہیں بلایا اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے علاوہ کسی اور کے پاس بغیراجازت کے جانے سے منع نہیں فرمایا لیکن آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا وقتِ وصال آچکا ہے۔''یہ کہہ کروہ چلے گئے۔

    اُمُّ المؤمنین ( حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا )فرماتی ہیں:'' پھرحضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کی:
'' السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ
ترجمہ :اے اللہ کے رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!آپ پر سلامتی ہو۔ یہ میرا زمین پر اُترنا آخری بارہے، وحی بھی لپیٹ دی گئی اور زمین بھی اور زمین پر مجھے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سوا کوئی کام نہ تھا، میری غرض صرف آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضری تھی، اب میں اپنی جگہ پررہوں گا۔'' (ام المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں) اس ذات کی قسم جس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! گھرمیں کسی کو بولنے کی تا ب نہ تھی، اورباہر سے مردوں کو بھی کوئی نہ بلاتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا کلام اس بڑے درجے کا تھا،ہم سب سہمے ہوئے اور خوفزدہ تھے۔ اُمُّ المو منین فرماتی ہیں: پھر میں اُٹھ کرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں حاضرہوئی اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا سرِانوراپنی چھاتی کے ساتھ لگا یا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سینۂ مبارک کو تھام لیا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر بےہوشی طاری ہوگئی حتی کہ غا لب آگئی۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پیشانی سے اس قدرپسینہ ٹپکتا تھا کہ میں نے کبھی کسی انسا ن کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے زیادہ خوشبودار نہیں دیکھا، میں وہ پسینہ پونچھتی تھی اوراس سے زیادہ خوشبودارچیزنہیں دیکھی۔ جب آپ کو افاقہ ہوتاتومیں عرض کرتی: ''میرے ماں باپ، میری جان ، گھر والے،مال واسباب سب آپ پرقربان ہوں، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پیشانی پراس قدرپسینہ کیوں ہے ؟ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے عا ئشہ ! مؤمن کی جان پسینے کے ذریعے نکلتی ہے اور کافرکی جان گدھے کی جان کی طرح اس کے نتھنوں سے نکلتی ہے۔'' اس وقت ہم سب عورتیں ڈرگئیں اور اپنے گھر کسی کو بھیجا، سب سے پہلے میرے بھائی تشریف لائے لیکن وہ آپ سے ملاقات نہ کرسکے۔ انہیں میرے والد ِماجدنے میرے پاس بھیجا تھا، او رکسی کے آنے سے پہلے ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپردکردی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سب کو روک رکھا تھا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کا معاملہ حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیھما السلام کے سپرد کررکھاتھا اورجب آپ پربیہوشی طاری ہوئی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: '' بَلِ الرَّفِیْقُ الْأعْلٰی ترجمہ: رفیقِ اعلیٰ کے پاس جانا ہے۔''
 (المعجم الکبیر، الحدیث۲۶۷۶،ج۳،ص۵۹تا۶۴، بتغیرٍ/الحدیث۱۰۴۱۷،ج۱۰،ص۱۸۹) 

(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ، الحدیث۲۶۴۰۷،ج۱۰،ص۱۴۳)
    اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:'' نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بروز سوموار
Flag Counter