حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:''ہم نے ایک ایسی بات کا سامنا کیا،جس کے بارے میں ہمارے پاس جواب یا رائے نہ تھی پس ہم خاموش ہوگئے گویا ہم ایک بہت بڑے صدمے کی وجہ سے بے حس وحرکت ہوگئے، اس عظیم صدمے کی ہیبت کی وجہ سے اہلِ بیت میں سے کوئی شخص بھی بول نہ سکتا تھا۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: اُسی وقت حضرت سَیِّدُنا جبرائیل علیہ السلام حاضرِ خدمت ہوئے، مجھے ان کے آنے کاعلم ہوگیا اور باقی لوگ باہر چلے گئے، وہ داخل ہوئے اور عرض کی: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کوسلام کہتا ہے اورآپ کی مزاج پرُسی فرماتا ہے ،حالانکہ وہ آپ کا حال ہم سے بہترجانتا ہے ،مگر وہ آپ کو مزید کرامت وشرافت اورتمام مخلوق سے زیادہ عظمت وبزرگی عطافرماناچاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ یہ (مزاج پرسی) آپ کی امت کے لئے سنت بن جائے۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''مجھے دردمحسوس ہو رہا ہے۔''تو انہوں نے عرض کی: ''خوشخبری ہو! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو اس مقام تک پہنچا نا چاہتا ہے جو اس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے تیا ر کیا ہے۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اے جبرائیل! مَلکُ الموت مجھ سے اجازت چاہتا ہے پھر آپ نے پوری بات بتائی حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی:'' اے محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !بے شک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ آپ کا مشتاق ہے، کیا اس نے آپ کو نہیں بتا یا کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے ؟''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! ملک الموت نے آج تک کسی سے اجازت نہیں مانگی اور نہ آئندہ کسی سے اجازت مانگے گا،لیکن آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ آپ کے شرف کو پورا کرنے والا ہے اور آپ کا مشتا ق ہے۔''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''ملک الموت کے آنے تک آپ یہاں سے نہ جائیں۔''پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے عورتوں کو اندر آنے کی اجازت عطافرمائی۔
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اے فاطمہ! میرے قریب آؤ۔'' وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طر ف جھکیں، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان کے کان میں سرگوشی کی، انہوں نے سر اٹھا یا توآنکھوں سے آنسوجاری تھے اور ان میں بات کرنے کی سکت نہ تھی۔ پھرفرمایا: ''اپنا سر میرے قریب کرو۔'' وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف جھک گئیں، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سرگوشی فرمائی اور انہوں نے سر اُٹھا یاتو مسکرارہی تھیں ،لیکن کلام کرنے کی سکت نہ تھی۔ ہمیں ان کی حالت سے تعجب ہوا ۔ا س کے بعد جب ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: مجھے حضورِ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''میں آج انتقال کرجاؤں گا تو میں رو پڑی ،پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''میں نے دُعا کی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے گھروالوں میں سب سے پہلے تجھے میرے ساتھ ملائے لہٰذا میں ہنس پڑی۔ اُمُّ المؤمنین فرماتی ہیں:'' (اسی دوران ) حضرت ملک الموت علیہ السلام آگئے اور سلام پیش کر کے اِجازت طلب کی۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اجازت عطافرمائی۔فر شتے نے عرض کی: اے محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا :''ابھی مجھے میرے رب تک پہنچا دو۔'' انہوں نے عرض کی:'' کیوں نہیں ،آج ہی ملا دوں گا، آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا مشتاق ہے اور جس قدرومنزلت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم