| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ہوں گے اور مجھ پردرودبھیجیں گے پھرحضرت میکائیل علیہ السلام پھرحضرت اسرافیل علیہ السلام پھرحضرت ملک الموت عزرائیل علیہ السلام بہت بڑے بڑے لشکروں کے ساتھ آئیں گے، پھرتمام فرشتے آئیں گے، اللہ عَزَّوَجَلَّ ان سب پررحمت فرمائے۔(آمین)
پھر تم سب لوگ قافلہ درقافلہ اورگروہ درگروہ آنا اورمجھ پردرود وسلام پیش کرنا اورچیخ وپکار کر کے اور رو دھو کر مجھے اذیت نہ پہنچا نا اور تم میں سے پہلے امام اور میرے اہل بیت میں سے زیادہ قریب والے مجھ پر درودِ پاک پڑھیں ،پھرعورتوں کا گروہ، پھربچوں کا گروہ۔ امیر ا لمؤمنین حضرتِ سَیِّدُناابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوقبرشریف میں کون اُتا رے گا؟'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' میرے اہلِ بیت میں سے قریبی لوگ ،ان کے ساتھ بے شمار فرشتے ہوں گے جو تمہیں نظر نہیں آتے ،لیکن وہ تمہیں دیکھتے ہیں ، اٹھو اورمیری طرف سے بعد والوں کو میرا سلام پہنچادینا ۔ ''
(المعجم الکبیر، الحدیث۲۶۷۶،ج۳، ص۶۳) (البحر الزخار بمسند البزار،مسند عبد اﷲ بن مسعود، الحدیث۲۰۲۸،ج۵،ص۳۹۴تا۳۹۶)
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ''جس دن نبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا وصال ہوا، توصبح کے وقت آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مزاج شریف میں صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے کچھ سکون دیکھا اس لئے صحابۂ کرام علیہم الرضوان خوشی خوشی اپنے گھرو ں اور کام کاج کی طرف روانہ ہوگئے اورنبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس صرف عورتیں رہ گئیں۔ ہم اسی حالت میں تھے ،گویا کہ اس سے پہلے ایسی امیداورخوشی نہ دیکھی تھی، تونبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' میرے پاس سے چلی جاؤ، یہ فرشتہ مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے۔'' چنا نچہ حجرۂ مبارکہ سے میرے علاوہ سب عورتیں چلی گئیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا سرِاقدس میری گودمیں تھا، جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اُٹھ کربیٹھ گئے، تو میں ایک کونے میں ہوگئی، فرشتے نے طویل گفتگو کی ،پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے بُلایا اور اپنا سرِ اقدس میری گو دمیں رکھ دیا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دیگر عورتوں سے فرمایا:'' تم بھی اندرآجاؤ۔''میں نے عرض کی: ''کیایہ آہٹ جبرائیل علیہ السلام کی نہ تھی؟'' نبئ رحمت، شفیعِ امت،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''ہاں، اے عائشہ ! یہ ملک ا لموت علیہ السلام تھے، جنہوں نے میرے پاس آ کر عرض کی: اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس بھیجا ہے اور حکم فرمایا ہے کہ میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس اجازت کے بغیرنہ آؤں، اگر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اجازت نہیں، تومیں چلا جا تا ہوں اوراگرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اجازت دیتے ہیں، تو اندر آجاتا ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اجازت کے بغیرآپ کی رو ح مبارک قبض نہ کروں، پس آپ کیا فرماتے ہیں ؟ ''تو میں نے کہا: ''ٹھہرجاؤ یہاں تک کہ حضرت جبریلِ امین علیہ السلام میرے پا س آجائيں ، یہ اُن کے آنے کا وقت ہے۔''