| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
مسواک لی، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے اپنے دہن ِمبارک میں داخل فرمایا توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو سخت محسو س ہوئی۔'' میں نے پوچھا: ''نرم کر دوں؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سرِانورسے اشارہ فرمایا:''ہاں۔'' میں نے اسے (دانتو ں سے ) نرم کردیا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سامنے پانی کاایک پیالہ تھا، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس میں اپنا دستِ مبارک داخل کرتے اورفرماتے:
''لَاإلٰہَ إلَّااللہُ
بے شک موت کی سختیاں ہیں۔'' پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دستِ مبارک اُوپر اٹھائے اورفرمایا: '
'ألرَّفِیْقُ الْأعْلٰی،ألرَّفِیْقُ الْأعْلٰی''
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی اعلیٰ دوست ہے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی اعلیٰ دوست ہے۔' ' تومیں نے کہا ـ:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہمیں اختیار نہیں فرمائیں گے ۔''
(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی ووفاتہ، الحدیث۴۴۴۹،ص۳۶۵)
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،اللہ کے پیارے حبیب ،حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سَیِّدُنا ابو بکرصِدِّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا :''اے ابوبکر ! مجھ سے سوال کرو ؟'' انہوں نے عرض کی: ''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !کیاموت قریب آگئی ؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا :''یقیناً قریب آگئی اور بہت قریب آ گئی۔'' حضرت سَیِّدُنا ابوبکرصِدِّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا:'' اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں جو نعمتیں ہیں وہ آپ کو مبارک ہوں، کاش! ہمیں اپنے انجام کا علم ہوجاتا ؟ تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''ہمارا انجام بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ، سِدرۃ المنتہی،جنت المأویٰ ، فردوسِ اعلیٰ ، بھرپورپیالے، رفیقِ اعلیٰ، لطف اُٹھانے اورخوشگوارزندگی کی طرف ہے۔'' انہوں نے عرض کی: ''یا نبی اللہ ! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوکون غسل دے؟''رسولِ کریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم نے ارشاد فرمایا:''میرے اہل بیت میں قریبی شخص۔''پھرہم نے عرض کی: ''آپ کو کِن کپڑوں میں کفن دیں؟''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جواباً فرمایا :''میرے انہی کپڑوں؛ یمنی چادراور مصری جُبّہ میں''
حضرت سَیِّدُنا ابوبکرصِدِّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر نمازِجنازہ کاطریقہ کیا ہوگا؟'' (راوی فرماتے ہیں)یہ سن کرہم سب رو پڑے، حضرت سَیِّدُنا ابوبکرصِدِّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی رو نے لگ گئے، توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:'' بس کرو، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری مغفرت فرمائے اورتمہیں اپنے نبی کی طرف سے اچھا بدلہ عطا فرمائے، جب تم میرے غسل وکفن سے فارغ ہو جاؤ،تو مجھے میرے اسی حجرے میں میری قبر کے کنارے چارپائی پررکھ دینااورکچھ دیرکے لئے باہر نکل جانا، کیونکہ سب سے پہلے میرا رب مجھ پر درود بھیجے گا۔( اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ رحمت نشان ہے)''ہُوَالَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلَائِکَتُہ،
ترجمۂ کنزالایمان: وہی ہے کہ درودبھیجتا ہے تم پروہ اور اس کے فرشتے۔(پ۲۲، الحزاب: ۴۳)'' پھروہ اپنے فرشتوں کو مجھ پر درود پاک پڑھنے کی اجازت دے گا، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق میں سب سے پہلے حضرت جبرائیل علیہ السلام میرے حجرے میں داخل