| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''ہم اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرۂ مبارکہ میں نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دنیا سے رخصت ہونے والے تھے۔ ہمیں دیکھ کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی آنکھوں سے آنسُو جاری ہوگئے پھرفرمایا '' خوش آمدید! اللہ عَزَّوَجَل تمہیں زندہ رکھے ، تمہیں پناہ دے ، تمہاری مددفرمائے، میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے تمہاری بھلائی کا طلب گارہوں، میں اس کی طرف سے تمہیں واضح ڈرسنانے والا ہوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے شہروں اور بندوں کے سلسلے میں تکبر نہ کرنا، موت قریب آ چکی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ، سدرۃ المنتہی ، جنت المأویٰ اور بھرے ہوئے جام کی طرف لوٹنا ہے، میری طرف سے اپنے آپ کو اور میرے بعد تمہارے دین میں داخل ہونے والوں کو سلام کہنا۔ ''
(البحر الزخار بمسند البزار، مسند عبد اﷲ بن مسعود، الحدیث۲۰۲۸،ج۵،ص۳۹۴تا۳۹۶)
ایک روایت میں ہے کہ نبیوں کے سلطان،سرورِ ذیشان ،محبوبِ رحمن عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے وصالِ ظاہری کے وقت حضرت سَیِّدُناجبرائیل علیہ السلام سے ارشاد فرمایا:''مَنْ لِأُمَّتِیْ مِنْ بَعْدِیْ ترجمہ :میرے بعدمیری اُمَّت کے لئے کون ہو گا۔'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ میرے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو خوشخبری سنا دو کہ میں انہیں اُن کی اُمَّت کے بارے میں رُسوا نہیں کرو ں گا اورانہیں یہ بھی خوشخبری دے دو ،کہ جب لوگوں کو (قبروں سے) اُٹھایا جائے گا ،تو سب سے پہلے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم باہر تشریف لائیں گے، جب لوگ جمع ہوں گے توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہی ان کے سردارہوں گے اورکوئی اُمَّت جنَّت میں داخل نہ ہو گی یہاں تک کہ آپ کی اُمَّت اس میں داخل ہو جائے۔'' یہ سن کر پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :
''ألْآنَ قَدْ قَرَّتْ عَیْنِیْ
ترجمہ:اب میری آنکھوں کوٹھنڈک حاصل ہوئی۔ ''
(المعجم الکبیر، الحدیث۲۶۷۶،ج۳،ص۶۳، مفہوماًبدون الَاْۤنَ قَرَّتْ عَیْنِیْ)
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ''سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے میرے گھرمیں، میری باری کے دن، میرے سینے اور گر دن کے درمیان وِصال فرمایا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال کے وقت میرے اور آپ کے لُعاب کو جمع فرما دیا، میرے پاس میرے بھائی حضرت سَیِّدُنا عبد الرحمن بن ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہما حاضرہوئے، ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مسواک کی طر ف دیکھنے لگے، تو میں سمجھ گئی کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے پسند فرمایاہے۔میں نے عرض کی:''میں یہ مسواک ان سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے لے لوں؟ ''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سرِانورکے اشارے سے فرمایا:''ہاں!میں نے ان سے وہ