الموت علیہ السلام نے فرمایا: نہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اب تجھے اپنے مال واسباب اور گھر والوں کو دیکھنا کبھی نصیب نہ ہوگا،پھر اس کی رُو ح قبض کرلی اوروہ لکڑی کی طرح گِرپڑا ،پھراسی حالت میں وہ فرشتہ ایک بندهٔ مؤمن سے مِلا، اُسے سلام کہا، اس نے سلام کا جواب دیا۔ فرشتے نے کہا: مجھے تم سے ایک کام ہے ۔اس نے کہا: بتائیے! فرشتے نے سرگو شی کی اور کہا: میں موت کا فرشتہ ہوں۔ اس آدمی نے کہا :خوش آمدید وصد مرحبا! مجھے ایک عرصہ سے آپ کا انتظار تھا،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! مجھے روئے زمین پرکسی غائب کی ملاقات آپ کی ملاقات سے زیادہ پسند نہیں ۔فرشتے نے اس سے کہا:آپ جس کا م کے لئے گھرسے نکلے ہیں، اسے پورا کیجئے ۔ اس نے کہا :اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات سے زیادہ پسنداوراس سے بڑھ کرمجھے کوئی حاجت نہیں۔ فرشتے نے کہا:آپ جس حال میں چاہیں گے میں اسی طرح آپ کی رُوح نکالوں گا۔اس نے پوچھا: کیایہ آپ کے اختیارمیں ہے ؟ فرشتے نے جواب دیا:ہاں! مجھے یہی حکم ہے۔ اس شخص نے کہا :مجھے وضو کرکے نمازپڑھنے دواور حالتِ سجدہ میں میری روح قبض کرلینا چنانچہ ملک الموت علیہ السلام نے حالتِ سجدہ میں اس کی رُوح قبض کی ۔ ''
حضرت سَیِّدُنا ابو بکر بن عبداللہ مزنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں: ''بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے مال جمع کیا ۔جب اس کی موت کا وقت آیا توبیٹوں سے کہنے لگا :مجھے میرے مختلف اموال دکھاؤ،اس کے پاس بہت سے گھوڑے ، اونٹ اور غلام لائے گئے ۔جب اس نے ان کی طرف دیکھا ،توحسرت سے رونے لگا۔ملک الموت علیہ السلام نے اسے روتے ہوئے دیکھا تو پوچھا: کیوں رورہے ہو؟اس ذات کی قسم جس نے تجھے یہ سب کچھ دیا ہے !جب تک میں تیری روح اوربدن کوایک دوسرے سے جدا نہ کردوں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔اس نے کہا: مجھے کچھ مہلت دیجئے کہ میں اس مال کو تقسیم کردو ں۔ فرشتے نے کہا: اب تجھے مہلت نہیں، تونے یہ کام اپنی موت کے آنے سے پہلے کیوں نہ کیا۔چنانچہ ملک الموت علیہ السلام نے اس کی رُوح قبض کرلی۔''