ہیں کیونکہ وہ آخرت کی عزت اور دنیا کی ذلت سے آشنا ہوتے ہیں اور جو دنیا کو آخرت کی ضد اور اس کے نقصانات کو نہیں جانتا وہ حقیقی عالم نہیں اور جو اس بات کا انکار کرتا ہے تو اس نے قرآن و حدیث اور تمام آسمانی کتابوں اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کے فرمان کا انکار کیا اور جواس کا علم ہونے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتا وہ شیطان کا قیدی ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اسے خواہش نفس نے ہلاک کر دیا اور اس کی بد بختی اس پر غالب آگئی اس لئے جو ایسے شخص کی پیروی کریگا وہ ہلاک ہو جائے گا تو اس درجے کا شخص علماء کے گروہ میں کیسے شمار ہوگا۔
حضرت سیِّدُناداؤد علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کی مناجات میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:'' جو عالم اپنی خواہش کو میری محبت پر ترجیح دیتا ہے میں اسے کم از کم یہ سزا دیتا ہوں کہ اسے اپنی مناجات کی لذت سے محروم کر دیتا ہوں، اے داؤد علیہ السلام مجھ سے ایسے عالم کے بارے میں سوال نہ کرنا جسے دنیا نے نشے میں ڈال دیا پس وہ تجھے میری محبت کے راستے سے روک دے گا اور یہ لوگ میرے بندوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، اے داؤد علیہ السلام! جو آدمی کسی بھاگے ہوئے کو میری طرف لے آتا ہے میں اسے دانا لکھ دیتا ہوں اور جسے میں دانا لکھ دوں اسے کبھی بھی عذاب نہیں دوں گا۔''
حضرت سیِّدُنا حسن بصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''علماء کی سزا دل کی موت ہے اور دل کی موت اُخرَوِی عمل کے ذریعے دنیا کو طلب کرنا ہے۔''
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''جب تم کسی عالم کو دنیا سے محبت کرتا دیکھو تو سمجھ لو کہ تمہارے دین میں وہ تہمت زدہ ہے کیونکہ ہر محبت کرنے والا اسی محبت میں مشغول رہتاہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔''
حضرت یحیی بن معاذ رازی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ علماء دنیا سے فرماتے:'' اے علماء ! تمہارے محلات قیصر کے محلات کی طرح اور تمہارے گھر کسریٰ کے گھرجیسے ہیں صرف تمہارے کپڑے (ظاہراً)پاک ہیں اور تمہارے موزے جالوت کے موزوں کی طرح ہیں، تمہاری سواریاں قارونی، برتن فرعونی اورمحافلِ سوگ دور جاہلیت جیسی ہیں اور تمہارے طور طریقے شیطانی ہیں،شریعتِ محمدی علیٰ صاحبھاالصلوٰۃ والسلام کہاں ہے؟'' شاعرکہتا ہے: