(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب المحتضرین، الحدیث۲،ج۵، ص۳۰۳)
حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں،میں نے رسولِ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کویہ ارشاد فرماتے سنا: ''موت کا فرشتہ ایک آدمی کے پاس آیا جو مررہا تھا، اس نے اس کے دل میں دیکھا تو اس میں کچھ نہ پایا اس کے جبڑوں کو کھولا تو زبان کے کنارے کو تالو سے ملا ہوادیکھا اورکہہ رہا تھا '' لَاإلٰہَ إلَّااللہُ ''تواس کلمۂ طیبہ کی بدولت اس کی بخشش ہوگئی۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب المحتضرین، الحدیث۹،ج۵،ص۳۰۴)
تلقین کرنے میں نرمی کی راہ اختیار کرنا مستحب ہے کہ شاید کمزوری کی وجہ سے زبان سے پڑھنا مشکل ہوتاہے اگروہ اس پراصرارکریگا تو اس بات کاڈرہے کہ قریب المرگ شخص کلمہ کوناپسندسمجھے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حُسنِ ظن رکھنا مستحب ہے۔
حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ خوشبودارہے:(اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:''أنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ فَلْیَظُنَّ بِی خَیْرًا۔
ترجمہ: بندہ مجھے اپنے گمان کے مطابق پاتا ہے پس اسے میرے بارے میں اچھا گمان رکھناچاہے۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب حسن الظن باﷲ، الحدیث۸۳،ج۱،ص۹۴) (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب حسن الظن باﷲ، الحدیث۶۳۳،ج۲،ص۱۵)
موت کے وقت مہلت نہیں دی جائے گی :
حضرت سَیِّدُنا وہب بن منَبِّہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:'' ایک بادشاہ نے کہیں جانے کے لئے سواری تیارکی، اس نے پہننے کے لئے کپڑے منگوائے لیکن وہ اسے پسند نہ آئے، دوسرے کپڑے منگوائے وہ بھی پسند نہ آئے، کئی بار ایسا کرنے کے بعد اس نے اپنے پسندیدہ کپڑے پہنے، اسی طرح اس نے سواری منگوائی وہ بھی پسندنہ آئی یہاں تک کہ اس کے پاس مختلف سواریاں لائی گئیں، تو وہ سب سے اچھی سواری پرسوارہوا، اتنے میں ابلیس آیا، اس نے اس کی ناک میں پھونک ماری، تووہ تکبرسے بھر گیا پھر لشکر کو ساتھ لے کرچل پڑا اور وہ تکبرکی وجہ سے لوگوں کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا جس کے کپڑے پھٹے پرانے تھے، اس نے سلام کیا تو بادشاہ نے جواب نہ دیا۔ اس نے بادشاہ کی سواری کی لگام پکڑلی۔ بادشاہ نے کہا: لگام چھوڑدو،تم نے بڑی گستاخی کی ہے۔ وہ کہنے لگا: مجھے تجھ سے ایک کام ہے۔ اس نے کہا: میرے اترنے تک صبرکر۔اس شخص نے کہا:نہیں ابھی۔ پھراس نے لگام کواچھی طرح دبایا۔ با دشاہ نے کہا :بول ! کیا کام ہے؟ اس نے کہا: را ز کی بات ہے۔بادشاہ نے اپنا سرجھکا کر اس کے قریب کیاتو اس نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا:میں موت کا فرشتہ ہوں۔ (یہ سن کر ) با دشاہ کا رنگ بد ل گیا اورزبان لڑکھڑانے لگی اور اسے کہنے لگا: مجھے اتنی مہلت دوکہ میں گھرجاکراپنے کام مکمل کرلوں اورگھر والوں کوالوَداع کہہ لوں۔ ملک