| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
گناہگاروں کوجہنم میں ان کا مقام دِکھانا اور مشاہدہ سے پہلے ان کو خوف دِلانا ہے، کیونکہ مرنے والے کی روح اس وقت تک نہیں نکلتی جب تک وہ ملک الموت علیہ السلام سے ان دونوں میں سے ایک کلمہ نہ سُن لے: (۱)اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن ! تجھے جہنم کی خبردی جاتی ہے (۲) اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی ! تجھے جنت مبارک ہو۔(اہلِ عقل کا خوف اسی وجہ سے تھا)
مردہ اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے :
حضور نبئ اَکرم ،نورِ مجسم، شاہ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے:
لَنْ یَخْرُجَ أحَدُکُمْ مِنَ الدُّنْیَا حَتّٰی یَعْلَمَ أیْنَ مَصِیْرُہ،،وَحَتّٰی یَرٰی مَقْعَدَہٗ مِنَ الجَنَّۃِ وَالنَّارِ۔
ترجمہ: تم میں سے کوئی ہرگزدنیاسے نہیں جاتا جب تک کہ اسے معلوم نہ ہوجائے کہ اس کا مقام کہاں ہے او رجب تک وہ جنت یاجہنم میں اپنا ٹھکانہ نہ دیکھ لے ۔
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب ذکر الموت، باب مقام المیت فی الجنۃ أم فی النار، الحدیث۳۰۳،ج۵،ص۴۹۴، بتغیرٍ)
قریب المرگ(یعنی مرنے کے قریب شخص) کو کیا کرنا چاہے؟
قریب المرگ(یعنی مرنے کے قریب ) شخص کے لئے خاموش اورپرسکون رہنامستحب ہے اور اس کی زبان پر کلمۂ شہادت جاری ہواوریہ بھی مستحب ہے کہ دل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں حسنِ ظن اوراس سے اپنی بخشش کی اُمیدرکھے ۔
سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے:''میت کے لئے تین باتوں میں بہتری کی توقع جانو:(۱) جب اس کی پیشانی پر پسینہ آجائے (۲) آنکھوں سے آنسو جاری ہوں اور(۳) ہونٹ خشک ہوجائیں۔پس یہ رحمتِ الٰہی کے نزول کی علامت ہے۔ ''(کنزالعمال،کتاب الموت، الباب الثانی، الفصل الاول، الحدیث۴۲۱۷۱،ج۱۵،ص۲۳۹، بدون: ویبست شفتاہ)
حضرت سَیِّدُنا ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے:
لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ قَوْلَ لَاإلٰہَ إلَّااللہُ۔
ترجمہ:اپنے فوت ہونے والوں کو کلمہ لَاإلٰہَ إلَّااللہُ کی تلقین کرو۔
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب تلقین الموت ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۱۲۳،ص۸۲۱)
حضرت سَیِّدُنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: