Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
386 - 415
'' آپ علیہ السلام نے فرمایا:''خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! پھر توتوُ موت کا فرشتہ ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام نے کمبل اوڑھ لیا۔''
 (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب ذکر الموت، باب ملک الموت واعوانہ، الحدیث۲۴۴،ج۵،ص۴۶۸)
روایت ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام ایک کھوپڑی کے پاس سے گزرے ،توآپ علیہ السلام نے اسے پاؤں سے ٹھو کر ماری اور فرمایا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے مجھ سے گفتگو کر۔'' اس نے عرض کی: ''اے روح اللہ علیہ السلام! میں فلاں فلاں زمانے کا بادشاہ ہوں،میں اپنی سلطنت میں اپنے سرپرتاج رکھے تخت پربیٹھا تھا اور میرے اِردگردمیرا لشکر اور میرے نوکر چاکرموجود تھے کہ اچانک موت کا فرشتہ میرے سامنے آیا،اسے دیکھتے ہی میرے تمام جوڑ ڈھیلے پڑگئے، پھرمیری جان نکل گئی، کاش! لوگوں کا وہ مجمع بِکھرا ہوا ہوتا اوراُن کی اُنسیت کی جگہ تنہائی کی وحشت ہوتی۔''
مَلَکُ الموت اور حضرت سَیِّدُنا ابراہیم علیہما السلام:
    حضرت سَیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، حضرت سَیِّدُنا ابراہیم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام بہت غیور تھے، آپ ایک گھرمیں عبادت کیاکرتے تھے، جب باہر تشریف لے جاتے، تواسے بندکردیتے، ایک دن واپس تشریف لائے تو گھر کے اندرایک آدمی کو پایا توپوچھا:'' تمہیں میرے گھرمیں کس نے داخل ہونے کی اجازت دی ؟''اس نے کہا:'' مجھے اس نے اجازت دی ،جومجھ سے اور آپ علیہ السلام سے زیادہ اس گھر کا مالک ہے۔'' آپ علیہ السلام نے پوچھا :''تو کون ہے؟ کیا تو فرشتہ ہے؟'' اس نے جو اب دیا:'' میں موت کا فرشتہ ہو ں۔'' آپ علیہ السلام نے پوچھا:''تم جس صورت میں مؤمن کی رو ح قبض کرتے ہو وہ صورت مجھے دکھا سکتے ہو؟'' عرض کیا:''جی ہاں! آپ علیہ السلام اپنارُخ دوسری طرف پھیریں ۔''جب آپ علیہ السلام دوبارہ متوجہ ہوئے تو دیکھا ایک نوجوان ہے اور آپ علیہ السلام نے اس کے حسن ، عمدہ کپڑوں اور پاکیز ہ خوشبو کا ذکر کیا، آپ علیہ السلام نے فرمایا :''اے ملک الموت علیہ السلام ! مؤمن کو موت کے وقت تمہاری صورت ہی کافی ہے ۔''

    کراماً کاتِبین (یعنی اعمال لکھنے والے فرشتوں )کو دیکھنے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، حضرت سَیِّدُناوہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص کی روح قبض ہوتی ہے وہ اس وقت تک فوت نہیں ہوتا جب تک اپنے اعمال لکھنے والے دونوں فرشتوں کو نہ دیکھ لے، اگر وہ اِطا عت گزار ہوتو وہ اس سے کہتے ہیں:''اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں ہماری طرف سے اچھابدلہ دے، تو نے کئی اچھی مجلسوں میں ہمیں بٹھایااور کئی اچھے اعمال کے وقت ہمیں حاضر ی کا موقعہ دیا۔'' اوراگرفاجرہوتوکہتے ہیں: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں ہماری طرف سے اچھابدلہ نہ دے، تونے ہمیں کئی بری مجلسوں میں بٹھایا اور ہمیں قبیح کلام سنایااور اس وقت مردہ ان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔''
Flag Counter