| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
پاتے ہو؟'' جب وہ خود بیمار ہوئے اور ان کاحال پوچھا گیا تو فرمایا:'' یوں محسو س ہوتا ہے کہ آسمان زمین سے آ ملے ہيں اور گویا میری روح سوئی کے ناکے سے نکل رہی ہے ۔
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، محسنِ انسانیت، مَحبوبِ رَبُّ العزت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ راحت نشان ہے:مَوْتُ الْفَجْأۃِ رَاحَۃٌ لِلْمُؤْمِنِ وَأسَفٌ عَلَی الْفَاجِرِ۔
ترجمہ:اچانک موت مؤمن کے لئے راحت اور فاجر کے لئے افسو س کا باعث ہے۔
(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ، الحدیث۲۵۰۹۶،ج۹،ص۴۶۲)
دوسری مصیبت:
موت کے فرشتے کی شکل دیکھنا اوردل پراس کے خوف کا طاری ہونا ہے۔ حضرت سَیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ و السلام کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے ملک الموت حضرت سَیِّدُناعزرائیل علیہ السلام سے فرمایا:''کیاتم مجھے وہ صورت دکھا سکتے ہو جس میں کسی گنہگار کی روح قبض کرتے ہو؟''ملک الموت علیہ السلام نے جواب دیا: ''آپ نہیں دیکھ سکیں گے ۔ '' پھر ملک الموت علیہ السلام نے آپ کو اپناچہرہ دوسری طرف کرنے کا کہا۔ آپ علیہ السلام نے چہرہ دوسری طرف پھیرا، پھر متوجہ ہوئے تو ایک سیاہ فام شخص کو دیکھا جس کے بال کھڑے ہیں، کپڑے سیاہ ہیں، اس سے بد بُو آرہی ہے اور اس کے منہ اور نتھنوں سے آگ اور دُھواں نکل رہاہے(یہ دیکھ کر) حضرت سَیِّدُناابراہیم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃو السلام پر بے ہوشی طاری ہوگئی، پھر افا قہ ہو ا تو ملک الموت علیہ السلام اپنی پہلی صورت پر آچکے تھے۔ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:'' اے ملک الموت علیہ السلام ! گنہگار آدمی کو موت کے وقت تمہاری صورت دیکھ لینا ہی کافی ہے ۔''
مَلَکُ الموت اور حضرت سَیِّدُنا داؤد علیہما السلام:
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، نبئ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''حضرت داؤد علیہ السلام بہت غیرت مند تھے، جب آپ علیہ السلام باہرتشریف لے جاتے ،تودروازہ بندکرکے جاتے، آپ نے ایک دن دروازہ بند کیا اور تشریف لے گئے، آپ کی بیوی نے جھانکا، توگھرمیں ایک شخص تھا، انہوں نے پوچھا:'' اسے کون یہاں لایاہے؟ اگرحضرت سَیِّدُنا داؤد(علیہ السلام) تشریف لے آئے تومصیبت کھڑی ہوجائے گی ۔''چنانچہ حضرت داؤدعلیہ السلام تشریف لائے، آپ نے اسے دیکھا توپوچھا : ''تو کون ہے ؟''اس نے جواب دیا:'' میں وہ ہوں جوبادشاہوں سے نہیں ڈرتااورنہ ہی دربا ن مجھے روک سکتے ہیں۔