Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
384 - 415
کر اس سے استدلال کرسکتاہے اور قیاس کی صورت یہ ہے کہ وہ جان لے کہ ان تکالیف میں روح کو بہت کم درد ہوتا ہے اور موت وہ درد ہے جو صرف روح کو پہنچتاہے اوراس کی تمام اعضاء میں شدّت ہوتی ہے تویہ دردکس قدرعظیم ہوگا، کیا آپ نہیں دیکھتے؟ جب آگ جسم کو جلادے تواس کا درد زخم سے زیادہ ہوتاہے، کیونکہ یہ روح کے تمام اجزاء کو پہنچتی ہے اور موت کی سختی میں درد کے باوجود چیخ وپکار کی آواز نہیں نکلتی، کیونکہ اس کی تکلیف دل پر غالب آجاتی ہے اور تمام اعضاء کااحاطہ کرلیتی ہے تو اس سے ہر عضو کی قوت ختم ہوجاتی ہے ،یہاں تک کہ مدد طلب کرنے کی قوت بھی باقی نہیں رہتی۔

     موت کی سختی عقل کو بھی ڈھانپ لیتی ہے اور پریشان کردیتی ہے ، زبان کو گونگا کردیتی اور اعضاء کو کمزور کردیتی ہے۔ موت کے وقت انسان چاہتا ہے کہ رو ئے،چلاَّئے او ر مدد طلب کرکے سکون حاصل کرے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتا اور اگر کچھ قوت باقی رہتی ہے تو رُوح کے نکلتے وقت اس کے حلق اور سینے سے غرغراہٹ کی آواز سنائی دیتی ہے، ا س کا رنگ بدل کر مٹیا لا ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ اس سے مٹی کا رنگ ظاہر ہوتا ہے جو اس کی اصل فطر ت ہے اور رو ح کو اس کی تمام رگوں سے کھینچ لیا جاتا ہے، پھر درجہ بدرجہ اس کے بد ن میں موت واقع ہوتی ہے، پہلے اس کے قدم ٹھنڈے پڑتے ہیں پھرپنڈلیاں پھررانیں۔ اورہرعضو میں نئی سختی اور حسرت پیداہوتی ہے حتیٰ کہ گلے تک نوبت پہنچتی ہے اس وقت اس کی نظر دنیا والوں سے پِھرجاتی ہے اور اس پر تو بہ کا دروازہ بند ہو جاتاہے ۔

    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:''جب تک غرغرۂ موت کی کیفیت پیدا نہ ہو بندے کی توبہ قبول کی جاتی ہے۔''
 (جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب ان اﷲ یقبل العبد ما لم یغرغر، الحدیث۳۵۳۷،ص۲۰۱۶)
    حضرت سَیِّدُنا حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے،نبئ اَکرم،نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے موت کی تکلیف اور اس کے گلے میں رکنے کا ذکر کرتے ہوئے ارشادفرمایا :''یہ تلوار کی تین سو ضربو ں کے برابر ہے۔''
 (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب ذکر الموت، باب الخوف من اﷲ، الحدیث۱۹۲،ج۵،ص۴۵۳)
     حضرت سَیِّدُنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے والد گرامی سے روایت بیان کی:'' جب مؤمن کا کوئی درجہ باقی رہ جاتا ہے جس تک وہ عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا،تو اس پر موت سخت کردی جاتی ہے ،تا کہ وہ موت کی سختیوں اور تکلیفوں کے بدلے جنت میں اپنا درجہ حاصل کرلے اور جب کافر کی کوئی نیکی ہو جس کا بدلہ اسے نہ دیا گیا ہو،تو اس پر موت کو آسان کردیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی نیکی کا عِوض حاصل کرلے ،پھراُسے جہنم کی طرف بھیج دیا جاتاہے۔''

    کسی بزرگ کے بارے ميں منقول ہے کہ وہ اکثر مر ض الموت میں مبتلا لوگوں کے پاس جا کر پوچھتے: ''تم موت کو کیسا
Flag Counter