کر اس سے استدلال کرسکتاہے اور قیاس کی صورت یہ ہے کہ وہ جان لے کہ ان تکالیف میں روح کو بہت کم درد ہوتا ہے اور موت وہ درد ہے جو صرف روح کو پہنچتاہے اوراس کی تمام اعضاء میں شدّت ہوتی ہے تویہ دردکس قدرعظیم ہوگا، کیا آپ نہیں دیکھتے؟ جب آگ جسم کو جلادے تواس کا درد زخم سے زیادہ ہوتاہے، کیونکہ یہ روح کے تمام اجزاء کو پہنچتی ہے اور موت کی سختی میں درد کے باوجود چیخ وپکار کی آواز نہیں نکلتی، کیونکہ اس کی تکلیف دل پر غالب آجاتی ہے اور تمام اعضاء کااحاطہ کرلیتی ہے تو اس سے ہر عضو کی قوت ختم ہوجاتی ہے ،یہاں تک کہ مدد طلب کرنے کی قوت بھی باقی نہیں رہتی۔
موت کی سختی عقل کو بھی ڈھانپ لیتی ہے اور پریشان کردیتی ہے ، زبان کو گونگا کردیتی اور اعضاء کو کمزور کردیتی ہے۔ موت کے وقت انسان چاہتا ہے کہ رو ئے،چلاَّئے او ر مدد طلب کرکے سکون حاصل کرے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتا اور اگر کچھ قوت باقی رہتی ہے تو رُوح کے نکلتے وقت اس کے حلق اور سینے سے غرغراہٹ کی آواز سنائی دیتی ہے، ا س کا رنگ بدل کر مٹیا لا ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ اس سے مٹی کا رنگ ظاہر ہوتا ہے جو اس کی اصل فطر ت ہے اور رو ح کو اس کی تمام رگوں سے کھینچ لیا جاتا ہے، پھر درجہ بدرجہ اس کے بد ن میں موت واقع ہوتی ہے، پہلے اس کے قدم ٹھنڈے پڑتے ہیں پھرپنڈلیاں پھررانیں۔ اورہرعضو میں نئی سختی اور حسرت پیداہوتی ہے حتیٰ کہ گلے تک نوبت پہنچتی ہے اس وقت اس کی نظر دنیا والوں سے پِھرجاتی ہے اور اس پر تو بہ کا دروازہ بند ہو جاتاہے ۔
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:''جب تک غرغرۂ موت کی کیفیت پیدا نہ ہو بندے کی توبہ قبول کی جاتی ہے۔''