| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے، نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پیشاب کے لئے تشریف لے جاتے اور مٹی سے طہارت فرماتے تھے،میں عرض کرتا:'' یا رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! پانی آپ کے قریب ہے۔'' توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے :''میں نہیں جانتا کہ میں اس تک پہنچ سکوں گا یانہیں۔ ''
(الزھدلابن المبارک، باب الاعتباروالتفکر، الحدیث۲۹۲،ص۹۹)
ایک روایت میں ہے،حضور نبئ رحمت، شفیعِ امت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے تین لکڑیاں لے کر ایک لکڑی اپنے سامنے گاڑھ دی ، دوسری اس کے پہلو میں اور تیسری کو اس سے دُور گاڑ ھا، پھرفرمایا: ''کیا تم جانتے ہو،یہ کیا ہے ؟''صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: '
' اَللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ
(اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بہتر جانتا ہے۔'' )آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''یہ (پہلی لکڑی) انسا ن ہے، یہ (اس کے قریب والی لکڑی) اس کی موت ہے اوروہ (دور والی لکڑی ) اس کی امیدہے، انسان امید کو پانا چاہتا ہے، لیکن موت اس کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب قصر الأمل، الحدیث۱۰،ج۳،ص۳۰۶)
سکراتِ موت کا بیان سکراتِ موت کے وقت کیا کِیا جائے ؟
جاننا چاہے!اگر انسان کے سامنے موت کی سختیوں کے علاوہ کوئی اور چیزنہ بھی ہو،تو پھر بھی یہ اس لائق ہے کہ اُسے زندگی خوشیوں میں مبتلا نہ کرے اور اسے چاہئے کہ ہمیشہ اس میں غور وفکر کرتا رہے اور اس کے لئے خوب تیاری کرے، جیسا کہ کسی دانا کا قول ہے: ''سختیاں تمہارے سوا کسی اور کے قبضے میں ہیں، تم نہیں جانتے کہ وہ کب تمہیں ڈھانپ لیں۔''
حضرت سَیِّدُنا لقمان حکیم علیہ رحمۃ اللہ الرحیم نے اپنے بیٹے سے فرمایا: ''اے بیٹے ! موت ایسامعاملہ ہے کہ تم نہیں جانتے وہ کب تمہیں پہنچے، اس کے اچانک آنے سے پہلے اس کی تیاری کرلو۔ ''
تعجب کی با ت ہے کہ اگر کسی انسان کو یہ تو قع ہو کہ ایک لشکری(یعنی سپاہی) آکر اسے پانچ چھڑیاں مارے گا، تو اس کی زندگی بے کیف و بے سرور ہوجائے گی، پس جب ہرشخص جانتا ہے کہ اس کے پاس ملک الموت علیہ السلام آئيں گے، تو اس کی زندگی بے مزہ کیوں نہیں ہوتی۔
جاننا چاہئے! سکراتِ موت کی حقیقی تکلیف صرف وہی شخص جان سکتا ہے جس نے اُسے چکھا ہو اورجس نے اُسے نہیں چکھا وہ ان تکا لیف پر قیاس کر کے اُسے جان سکتا ہے جو اُسے پہنچی ہوں یامردو ں کوحالتِ نزع میں سختی بر داشت کرتے ہوئے دیکھ