| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
کے لئے اور اپنی صحت کی حالت میں بیماری کے لئے عمل کرلے،کیونکہ اے عبداللہ ! تو نہیں جانتا کہ کل تیرا نام کیا ہوگا(زندہ یا مردہ)۔
(حلیۃ الاولیاء، عبد اﷲ بن عمر بن الخطاب، الحدیث۱۱۰۵،ج۱،ص۳۸۶)
امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّم اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہ، الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ سیِّدُ المُبلِّغِین، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاارشادِمبارک ہے:'' مجھے تم پر دوباتوں کا بہت زیادہ خوف ہے: خواہش کی پیروی کرنا اور لمبی امید رکھنا ، خواہش کی پیروی تو حق بات سے روکتی ہے اور لمبی امید دنیا سے محبت میں مبتلا کرتی ہے ۔ ''
پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''یاد رکھو! بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بھی دنیا عطا فرماتاہے جس سے محبت کرتا ہے اوراسے بھی دیتا ہے جسے ناپسند کرتا ہے مگر جب وہ کسی بندے سے محبت فرماتا ہے ،تو اسے ایمان(کی دولت ) عطا فرماتا ہے، سن لو ! کچھ لوگ دین والے ہیں اور کچھ دنیا والے، تم دین والے بنو،دنیا والے نہ بنو،یاد رکھو! دنیا پیٹھ پھیرکرجارہی ہے، جان لو ! آخرت قریب آچکی ہے،خبر دار!آج تم عمل کے دن میں ہو، اس میں حساب نہیں، عنقریب تم حساب کے دن میں ہوگے اور وہاں کوئی عمل نہ ہوگا ۔''(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب قصر الامل، الحدیث۳،ج۳،ص۳۰۳۔۳۰۴)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:'' اے لوگو ! کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیاء نہیں کرتے؟'' صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا:'' یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!وہ کیسے ؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' تم وہ مال جمع کرتے ہو جسے کھاتے نہیں اور اس چیزکی اُمیدرکھتے ہو جسے حاصل نہیں کرسکتے اوروہ مکان بناتے ہوجن میں تمہیں رہنا نہیں ۔''
(شعب االایمان للبیہقی، باب فی الزھد وقصرالامل، الحدیث۱۰۵۶۲،ج۷،ص۳۵۴۔۳۵۵، لا تسکنون:بدلہ:لاتعمرو ن)
حضرت سَیِّدُنا ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، حضرت سَیِّدُنا اُسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت سَیِّدُنا زیدبن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایک لونڈی ایک سو دینار میں خرید ی اور ایک مہینے کا اُدھار کیا ،رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ بات سنی، تو ارشاد فرمایا: ''کیا تم اُسامہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) پر تعجب نہيں کرتے جو مہینے کاسودا کرتا ہے،یقینا ا ُسامہ لمبی اُمید والا ہے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! جب میں اپنی آنکھیں جھپکتا ہوں تو یہ گمان کرتا ہوں کہ کہیں میری پَلکیں کھلنے سے پہلے ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ میری رو ح قبض نہ فرما لے اور جب اپنی پلکیں اٹھاتا ہوں تویہ خیال کرتاہوں کہ کہیں انہیں جھکانے سے پہلے ہی موت کاوعدہ نہ آجائے اور جب کوئی لقمہ منہ میں ڈالتا ہوں تو یہ گمان کرتاہوں کہ موت کااُچھو لگنے(يعنی موت آنے) سے پہلے اسے نہ نگل سکوں گا۔'' پھر فرمایا: ''اے لوگو ! اگر تمہیں عقل ہے، تو اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! جس بات کا تم سے وعدہ کیاگیا ہے، وہ آنے والی ہے اور تم اسے آنے سے نہیں روک سکتے۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب قصر الامل، الحدیث۶،ج۳،ص۳۰۴۔۳۰۵)