نبئ رحمت،شفیعِ اُمَّت،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ بشارت نشان ہے:
'' تُحْفَۃُ المُؤْمِنِ اَلمَوْتُ
ترجمہ: موت، مؤمن کے لئے تحفہ ہے۔''
(المستدرک، کتاب الرقاق، باب لا یکون أحد متقیاً۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۷۹۷۰،ج۵، ص۴۵۵)
نور کے پیکر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے:
''کَفٰی بِالْمَوْتِ وَاعِظًا
ترجمہ:موت وعظ ونصیحت کے لئے کافی ہے۔
(شعب االایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصرالامل، الحدیث۱۰۵۵۶،ج۷،ص۳۵۳)
نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایک مسجد کی طرف تشریف لے گئے ،و ہاں کچھ لوگ باتیں کر رہے اور ہنس رہے تھے، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''موت کو یاد کرو ،اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے !اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو کم ہنستے اورزیادہ روتے ۔''
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب ذکر الموت، باب الموت والاستعداد لہ، الحدیث۹۶،ج۵،ص۴۲۳)
یاد رکھئے!بے شک موت کا معاملہ بڑا ہولناک ہے، اس میں غوروفکر کرنا دھوکے کے گھر(یعنی دنیا) سے دور رہنے، خوش فہمی کاشکارنہ ہونے اور اس کے لئے تیاری کرنے کا باعث ہے، ہاں! جب انسان اسے مشغول دِل کے ساتھ یاد کرتا ہے، تو اس کا اثر دل میں ظاہر نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں طریقہ یہ ہے کہ انسا ن اپنے دل کو موت کی یاد کے علاوہ ہر خیال سے پاک کردے اور اس میں اس طرح غوروفکرکرے، جس طرح وہ خشکی یا سمند رکے سفرکے بارے میں غوروفکرکرتا ہے، جس پرروانہ ہونے کا اس کا پختہ ارادہ ہوتا ہے کیونکہ اس کے دل پر اسی کے بارے ميں سوچ وبچار اور اس کے لئے تیاری کرنے کے علاوہ کوئی خیال غالب نہیں رہتا۔
اُمیدوں کو کم کرنا اور لمبی اُمیدوں کی مذمت :
حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ارشاد فرمایا: ''جب تو صبح کرے، تو اپنے نفس سے شام کا ذکر نہ کر اورجب شام کرے تو اس سے صبح کا ذکر نہ کر، اپنی زندگی میں موت