Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
380 - 415
باب 40:         موت اوراس کے بعد کا بیان
     اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے :
قُلْ اِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیۡ تَفِرُّوۡنَ مِنْہُ فَاِنَّہٗ مُلٰقِیۡکُمْ
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ موت جس سے تم بھاگتے ہووہ تو ضرور تمہیں ملنی ہے ۔(پ 28، الجمعۃ :8)

    بعض لوگ موت کوکبھی کبھاریاد کرلیتے ہیں اور جب اسے یاد کرتے ہیں ،تو اسے ناپسند سمجھتے ہیں کیونکہ وہ دنیا میں مشغول ہوتے ہیں، تو ایسے شخص کو موت کی یاد اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مزیددورکردیتی ہے۔لیکن کچھ لوگ مکمل طور پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہو کراپنے گناہوں سے توبہ کرلیتے ہیں ،پس موت کی یاد توبہ کے مکمل ہونے کے ساتھ ان کے دلوں میں خشیَّتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ، خوف، تیاری اوروفا میں اضافہ کردیتی ہے اور وہ شخص دنیا میں مشغول ہونے کی وجہ سے موت کو نا پسند نہیں کرتا بلکہ زادِراہ کی کمی اور آخرت کی تیاری نہ ہونے کی وجہ سے موت کو نا پسند کرتا ہے اوریہ ناپسند جاننا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات کونا پسند کرنانہیں اوریہ مذموم بھی نہیں ہے، بلکہ وہ شخص آخرت کی تیاری کے لئے دنیا وی زندگی چاہتا ہے اور اسی محبت کے ساتھ اسے اسی تیاری میں موت آجائے تو موت اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات اوراس کے جوارِ رحمت کی طرف لے جائے گی ۔عا رف ہمیشہ موت کو یادکرتاہے، کیونکہ موت کے ساتھ محبوب سے ملاقات کا وعدہ ہے اور محب، محبوب کی ملاقات کے وقت کو کبھی نہیں بھول سکتا۔کیونکہ موت عام طورپردیرسے آتی ہے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں مروی ہے، جب ان کی وفات کا وقت آیا تو ارشاد فرمایا: ''میرا دوست(یعنی محبوب سے ملاقات کا وعدہ) میری بے سروسامانی کی حالت میں آیا، مجھے صرف ندامت سے کامیابی نہیں، اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اگر تیرے علم میں مجھے غناء کے مقابلہ میں فقر ، صحت کے مقابلہ میں بیماری اور زندگی کے مقابلہ میں موت زیادہ پسند ہے تو مجھ پر موت آسان فرمادے یہاں تک کہ میں تجھ سے ملاقات کرلو ں ۔''

    بلندمرتبہ یہ ہے کہ بندہ اپنا معا ملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کردے ،پس اپنے لئے زندگی وموت اختیار نہ کرے۔موت کی محبت بندے کو مقامِ تسلیم تک پہنچا دیتی ہے، تو وہ اپنے نفس کے لئے وہی چیز اختیار کرتاہے، جواس کا رب عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے پسندکرے۔
موت کے ذکرکی فضیلت :
    نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم،شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ حقیقت نشان ہے:
'' اَکْثِرُوْامِنْ ھَازِمِ اللَّذَّاتِ
ترجمہ :لذَّات کو ختم کرنے والی چیزموت کو کثرت سے یاد کرو ۔
 (جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب ماجاء فی ذکر الموت، الحدیث۲۳۰۷،ص۱۸۸۴)
Flag Counter