Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
379 - 415
     حضرت سَیِّدُنا جنیدِبغدادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں :''سب سے بہتراوراعلیٰ مجلس آدمی کا توحیدکے میدان میں فکرکے ساتھ بیٹھنا، معرفت کی بادِنسیم سے لطف اندوز ہونااوردریائے محبت سے محبت کا پیالہ پینا اور حُسنِ ظن کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف دیکھناہے، پھرفرمایا: ان مجالس کا کیا کہنا، یہ کتنی شاندار ہیں اوران کی شراب کس قدرلذیذہے اور جس کو یہ عطا کی گئی وہ نہایت ہی خوش نصیب اور مبارک با د کا مستحق ہے۔ ''
فکرکی حقیقت اوراس کا نتیجہ:
    جاننا چاہے ! فکر کا معنی دل میں دو معرفتوں کوحاضرکرنا ہے تاکہ بندہ اس سے تیسری معرفت حاصل کرے اور اس کی مثال یہ ہے کہ وہ پہچا ن لے کہ آخرت ہی بہتر اورباقی رہنے والی ہے اور بہتر اورباقی رہنے والی کو اختیار کرنا ہی زیادہ مناسب ہے۔غور وفکر کرنے کا مقصد دل میں علم کا حصول ہے پس یہ ہرحال اور فعل کے اعتبار سے نجات کو ثابت کرتی ہے اور یہ دونوں معرفتیں علم کا نتیجہ ہیں اورعلم غور وفکر کرنے کا نتیجہ ہے۔
فکرکی گزرگا ہیں:
    جاننا چاہے! بندہ کبھی اپنے نفس کی حالت کو دیکھتا اور اس میں غوروفکر کرتا ہے جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے اورکبھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات ، صفات اورافعال میں غوروفکرکرتا ہے۔ جہاں تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات میں غوروفکرکرنے کا تعلق ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تک رسائی صرف اس کے ذکر سے ہی ممکن ہے اورانسان جس قدر اس کی صفات ، افعال ،ملک وملکوت میں غوروفکر کرتا ہے تواس پر جمالِ خداوندی عَزَّوَجَل کے ظاہرہونے سے اس کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے اوریہ چیز اسمائے الٰہیہ کے معانی،اس کی صفات میں تدبرکرنے،زمین وآسماں اورستارو ں میں غورفکرکرنے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی ذات کے سوا ہرچیزمیں غورو فکرکرنے سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ ہرچیزاللہ عَزَّوَجَلَّ کی تخلیق وصنعت ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمانِ عظمت نشان ہے:
 (1) سَنُرِیۡہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ
ترجمۂ کنزالایمان:ابھی ہم اُنہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں(یعنی نشانیاں) دُنیابھرمیں۔(پ25،حم السجدۃ: 53)
(2)وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوۡنَ ﴿21﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور خودتم میں،توکیاتمہیں سوجھتا نہیں۔(پ26، الذٰریٰت: 1 2)

    پس غور وفکرکی گزرگاہ (یعنی اس کا مقام) تمہارا اپنا نفس اوراس کے بعداللہ عَزَّوَجَلَّ کی تمام مخلوق ہے۔ اس بات کو سمجھ لو فائدہ ہوگا۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
Flag Counter