Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
37 - 415
علم کی آفات کا بیان

علماء آخرت اورعلماء دنیاکی علامات :
شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
اَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَالِمٌ لَایَنْفَعُہ، اللہُ بِعِلْمِہِ
ترجمہ : قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب اس عالم کو ہو گا جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے علم سے نفع نہیں دیا۔
(شعب الایمان ،باب فی بر الوالدین ،فصل فی عقوق الوالدین ،الحدیث۷۸۸۸،ج۶،ص۱۹۷،بتغیرٍ)
    حضور نبئ پاک ،صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
مَنِ ازْدَادَ عِلْمًا وَلَمْ یَزْدَدْ ھُدًی لَمْ یَزْدَدْ مِنَ اللہِ اِلَّا بُعْدًا۔
ترجمہ :جس شخص کے پاس علم زیادہ ہواور ہدایت زیادہ نہ ہو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دور ہو جاتا ہے۔
(فردوس الاخبار للدیلمی ،باب المیم ،الحدیث۶۲۹۸،ج۲،ص۳۰۳) ولم یزدد ھدیً:بدلہ:فلم یزدد فی الدنیا زھداً)
     جان لو! عالم کا علم میں مشغول ہونا اس کی سلامتی کوخطرے میں ڈال دیتاہے پھر یا تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے یا ابدی سعادت حاصل کر لیتا ہے۔

    حضرت سیِّدُناخلیل بن احمد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''لوگ چار قسم کے ہیں(۱)وہ شخص جو علم رکھتاہے اور اسے معلوم بھی ہے کہ اس کے پاس علم ہے تو یہ عالم ہے اس کی پیروی کرو۔(۲)وہ شخص جو علم رکھتا ہے لیکن اسے معلوم نہیں کہ اس کے پاس علم ہے یہ شخص سویا ہوا ہے اس کو جگادو۔(۳)وہ شخص جوعلم نہیں رکھتااور اس کا خیال بھی یہی ہے کہ وہ علم نہیں رکھتایہ ہدایت کا طالب ہے اس کی رہنمائی کرو۔اور(۴)وہ شخص جوعلم نہیں رکھتا اور اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے پاس علم نہیں ہے ایسا شخص جاہل ہے اسے چھوڑ دو۔

    حضرت سیِّدُناسفیان ثوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''علم عمل کو پکارتاہے اگر وہ اس کا جواب دے توٹھیک ورنہ علم چلا جاتا ہے۔''

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:
وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنْہَا
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں تو وہ ان سے صاف نکل گیا۔(پ9 ،الاعراف:175)

    علماء آخرت وہ ہیں جو اپنے دین کے بدلے میں دنیا نہیں کماتے اور نہ ہی دنیا کے بدلے میں آخرت کا سودا کرتے
Flag Counter