Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
378 - 415
وسوسے نہیں ڈالتا؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ شیطان پیدا بھی کیاگیاہے یا نہیں۔''صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے پھرعرض کیا:''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!کیا وہ حضرت سَیِّدُنا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد میں سے ہیں؟'' ارشاد فرمایا:''ہاں، اور ان کویہ خبر بھی نہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام پیدا بھی کئے گئے ہیں یا نہیں۔''
 (العظمۃ لابی الشیخ الاصبھانی، ما ذکرمن کثرۃ عبادہ اﷲ فی ارضہ وما خصوا بہ من النعم، الحدیث۹۶۰،ص۳۲۵، بتغیرٍ)
    حضرت سَیِّدُنا عطاء ر ضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: ایک دن میں اورحضرت سَیِّدُنا عبید بن عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ اُم المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضرہوئے ،ہمارے اوران کے درمیان پردہ تھا، اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا:'' اے عبید ! تمہیں ہمارے پاس آنے سے کس چیز نے روکا ہے ؟' 'انہوں نے عرض کی:''اللہ کے رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمان نے:
''زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا
ترجمہ:ملاقات میں دیر کیا کرو، محبت میں اضافہ ہو گا۔''

    پھرحضرت سَیِّدُنا ابن عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:'' آپ ہمیں رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی کوئی انوکھی بات بتائیے ،جو آپ نے دیکھی ہو؟''یہ سن کرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رونے لگیں اورفرمایا: رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ہر معاملہ عجیب تھا، ایک رات آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے ساتھ آرام فرما رہے تھے ،یہاں تک کہ آپ کے جسم کیساتھ میرا جسم مَس ہوا، توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم َّنےفرمایا:'' مجھے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرنے دو۔'' پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مشکیزے کی طر ف تشریف لے گئے، اس سے وضو فرمایا ،پھر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگے اور اس قدر روئے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی داڑھی مبارک تر ہوگئی، پھر سجدہ کیا یہاں تک کہ زمین تر ہوگئی، اس کے بعد پہلو پر آرام فرماہو گئے حتی کہ حضرت سَیِّدُنا بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاضرہوکر نمازِفجرکی اطلاع دی اور عرض کی:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!آپ کیوں رو رہے ہیں؟ حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سبب آپ کے اَگلوں پچھلو ں کے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔''توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اے بلال! تجھ پرافسوس ! میں کیوں نہ روؤں، آج رات مجھ پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ہے:
اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلْبَابِ ﴿۱۹۰﴾ۚۙ
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک آسمانوں او رزمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لئے۔(پ۴،آل عمران:۱۹۰)''پھرفرمایا: ''اس شخص کے لئے خرابی ہے جو اس آیتِ کریمہ کو پڑھے لیکن اس میں غور وفکر نہ کرے ۔''
 (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب التوبۃ، الحدیث۶۱۹،ج۲،ص۹، بتغیرٍ)
    حضرت سَیِّدُناامام اوزاعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے پوچھا گیا: ''ان آیا ت میں انتہائی غوروفکر کیا ہے ؟''انہوں نے فرمایا: ''ان کوپڑھا اورسمجھا جائے ۔''
Flag Counter