(العظمۃ لابی الشیخ الاصبھانی، باب الامر بالتفکرفی آیات اﷲ۔۔۔۔۔۔الخ، ما ذکر من الفضل۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۴۴،ص۳۳)
قرآنِ مجید اوراحادیثِ طیبہ میں غوروفکر،تدبّراورعبرت حاصل کرنے پر اُبھارا گیا ہے کیونکہ یہ انوارِ خداوندی عَزَّوَجَل کی چابی ، بصیرت کا منبع اور علوم کے لئے جال ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے غور وفکر کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے ہو ئے ارشاد فرمایا:
وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان : اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غو ر کرتے ہیں۔(پ 4 ، اٰل عمران : 191)
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:''ایک جماعت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں غور وفکر کرنے لگی ،تونبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: '' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق کے بارے میں غوروفکرکرواور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں غوروفکرنہ کرو کیونکہ تم اس کی قدرت کا اندازہ نہیں کرسکتے ۔''
(العظمۃ لابی الشیخ الاصبھانی، باب الامر بالتفکرفی آیات اﷲ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۵،ص۱۸)
مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کچھ لوگوں کے پاس تشریف لائے ،جو غوروفکر کر رہے تھے، رسولِ اَکرم، نورِمجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اِستفسار فرمایا: ''تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ گفتگو نہیں کرتے؟'' صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:'' ہم اللہ عَزَّوَجَل کی مخلوق کے بارے میں غور وفکر کر رہے ہیں۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' اُس کی مخلوق میں غوروفکر کرو، مگر اس کے بارے میں غور وفکر نہ کیا کرو ،کیونکہ مغر ب کی طرف ایک سفید زمین ہے جس کی رو شنی اس کی سفیدی یا جس کی سفیدی اس کی روشنی کی طرح ہے، اس کی مسافت تمہارے چالیس دنوں جتنی ہے، اس جگہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایسی مخلوق ہے جو پلک جھپکنے کی مقدار بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کرتے۔'' صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! کیا شیطان ان(کے دل )میں