Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
375 - 415
مُطْمَئِنَّہ
بن جائے گا،پس وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو ں میں داخل ہو جائے گا وہ اس طرح کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے راضی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے راضی ہوگا، لہٰذا تم نفس سے ایک لمحہ کے لئے بھی غا فل نہ رہو اور جب تک اس کی اصلاح نہ کرلو دو سرے کو نصیحت نہ کرو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃوالسلام سے اِرشاد فرمایا: ''اے ابن مریم ! اپنے نفس کو نصیحت کرو، اگر اس نے نصیحت مان لی، تو لوگو ں کو نصیحت کرنا ورنہ مجھ سے حیاء کرنا۔''

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے:
وَّ ذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنۡفَعُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿55﴾
ترجمۂ کنزالایمان : اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔(پ 27 ، الذٰریٰت:55)

    پس تم پرلازم ہے کہ اپنے نفس پر تو جہ دو او راسے بار بار اس کی حماقت، جہالت اور دھوکا دہی بتاؤ اور اُسے کہو: تجھے شرم نہیں آتی کہ تُو لوگو ں کو احمق وجاہل بتاتا ہے ،حالانکہ توخود سب سے بڑا جاہل ہے،بے شک تو جنت یا دوزخ کی طرف جائے گا اور تجھے کیا ہے کہ تو لہوولعب اور ہنسنے میں مشغول ہے، حالانکہ تو ہر اس کام کے لئے مطلوب ہے، شاید تو موت کو دور سمجھتا ہے حالانکہ وہ قریب ہے، شاید موت آج دن، را ت یا کل آجائے اور مستقبل میں واقع ہونے والی ہر چیز قریب ہی ہوتی ہے، کیا تجھے معلوم نہیں کہ وہ اچانک آئے گی اور اس سے پہلے کو ئی قاصِد نہیں آئے گا۔
حکایت:
    حضرت سَیِّدُنا منصور بن عمار علیہ رحمۃ اللہ الغفّار فرماتے ہیں: میں نے ایک رات کو فہ میں ایک عبادت گزار کو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے مناجات کرتے سنا،وہ کہہ رہا تھا: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! مجھے تیری عزت کی قسم! میں نے تیری مخالفت کے اِرادے سے تیری نافرمانی نہیں کی،تیرے مقام سے ناواقف ہوتے ہوئے بھی نہیں کی اور نہ ہی (اپنے آپ کو) تیرے عذاب کے لئے پیش کرنا مقصود تھااور میں تجھے حقیر بھی نہ سمجھتا تھا،لیکن میرے نفس نے اس کا م کو میرے سامنے اچھا کرکے پیش کیا، میری بد بختی نے اس معاملے میں میری مدد کی اور مجھے تیر ی پردہ پوشی سے دھوکا ہوا، تو میں نے اپنی جہالت کی وجہ سے تیری نافرمانی کی اور اپنے عمل سے تیری مخالفت کی، اب تیرے عذاب سے مجھے کون بچائے گا یا میں کس کی رسی کو پکڑوں گا، اگر تیری رسی مجھ سے چھوٹ جائے، بڑی خرابی تویہ ہے کہ کل قیامت کے دن تیرے سامنے کھڑا ہونا ہوگا، جب ہلکے پھلکے لوگوں سے کہا جائے گا: تم گزر جاؤ اور زیادہ بوجھ والوں سے کہا جائے گا: اُتر جاؤتوکیامیں ہلکے پھلکے لوگوں کے ساتھ گز ر جاؤں گا یا بوجھ والوں کے ساتھ نیچے اتا ر دیا جاؤں گا؟ ہائے میری بربادی! جیسے جیسے میری عمربڑھتی گئی گناہ بھی زیادہ ہوتے گئے، میں کب تک تو بہ کرتارہوں گا ؟ اورکب تک دوبارہ گناہ کرتارہوں گا؟ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ میں اپنے رب سے حیاکر وں؟''
Flag Counter