| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
نفس کی نگہداشت کے لئے مندرجہ ذیل چھ مقامات ہیں، ہم اس کی تشریح کرتے ہیں۔
پہلا مقام : نفس سے شرائط طے کرنا:
جاننا چاہے! راہِ آخرت میں عقل تا جر کی طرح اور نفس اس کے شریک کی طرح ہے کیونکہ عقل اسی کی مدد سے مقصو د تک پہنچ سکتی ہے اور اگر نفس کو کھلی چھٹی دے دی جائے تو یہ امانت ادا نہیں کرتا، مگر حیاء اورریاء کے طور پر۔ پس عقل اس بات کی محتاج ہے کہ وہ پہلے نفس سے شرائط طے کرے پھر اس کی نگرانی کرے ،تیسرے مرحلے میں اس کا حساب لے اور اس کے بعد اسے سزادے۔ پھرکچھ امور اُس کے سپردکرے، اس پر چند شرائط عا ئد کرے، کا میابی کے راستوں پر اس کی رہنمائی کرے اور اس کو سخت حکم دے ۔
دوسرامقام :مراقبہ کرنا:
جب نفس خیانت کرنے والے شریک کی طرح ہو تو اسے ایک لمحہ کے لئے بھی ڈھیل نہیں دی جاسکتی تا کہ وہ خیانت نہ کرے ،ورنہ نفع حاصل ہونے کے بجائے اصل مال ہی ضائع ہوجائے گا ،لہٰذا حرکات و سکنات اور لحظات میں ہمیشہ کے لئے مراقبہ ہونا ضروری ہے۔ نبئ اَکرم،نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
أُعْبُدْ رَبَّکَ کَاَنَّکَ تَرَاہ، فَإنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہ، فَإنَّہ، یَرَاکَ۔
ترجمہ :اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت اس طرح کر وگو یا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھتے ہو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے ۔
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان الایمان والاحسان ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۹۳،ص۶۸۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیۡکُمْ رَقِیۡبًا ﴿1﴾
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے ۔(پ4،النساء :1)
حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ بن محمد نیشاپوری مرتعش رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ''مراقبہ یہ ہے کہ ہرلمحہ اورہرلفظ کے ساتھ غیب کو ملاحظہ کرتے ہوئے باطن کا خیال رکھنا۔''تیسرا مقام : عمل کے بعد نفس کامحاسبہ کرنا:
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ حقیقت نشان ہے:
وَ لْتَنۡظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لئے کیا آگے بھیجا ۔(پ ۲۸ ، الحشر:۱۸)