Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
372 - 415
باب38:          مُرَاقَبَہ ومُحَاسَبَہ کا بیان
    جاننا چاہے ! یومِ محشر کے حساب پر ایمان لانا محاسبہ کے لئے تیاری کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ نصیحت نشان ہے:
حَاسَبُوْا أنْفُسَکُمْ قَبْلَ أنْ تُحَاسَبُوْا۔
(جامع الترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، باب حدیث الکیس ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۴۵۹،ص۱۸۹۹)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
(1) وَنَضَعُ الْمَوَازِیۡنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْـًٔا ؕ وَ اِنۡ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیۡنَابِہَا ؕ وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِیۡنَ ﴿47﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم عدل کی ترا زو ئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پرکچھ ظلم نہ ہوگا اور اگر کوئی چیز رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم کا فی ہیں حساب کو۔(پ17، الانبیآء: 47)
(2) مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّلَاکَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحْصٰىہَا ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:اس نوشتہ کو کیاہوانہ اس نے کوئی چھوٹاگناہ چھوڑانہ بڑاجسے گھیرنہ لیاہو(15،الکھف:49)
(3) وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ فَاحْذَرُوۡہُ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان: اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو۔ (پ2البقرہ:235)
     جاننا چاہے! جس شخص نے ہر لمحے اپنے نفس کا محاسبہ کیا قیامت کے دن اس کی حسرتیں کم ہوں گیں اور جس نے اپنا محاسبہ نہ کیا وہ ہمیشہ حسرت کا شکار رہے گا اورقیامت کے دن اسے زیادہ دیر رکنا پڑے گا اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا ۟
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو صبرکرواور صبرمیں دشمنوں سے آگے رہو اور سر حد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کر و۔(پ4، اٰل عمران :200)

    پس ایمان والوں نے اپنے نفوس کی نگہبائی اس طرح کی کہ پہلے ان سے شرط باندھی پھرمراقبہ(یعنی حضوریئ دل سے خدا کا دھیان) کیا پھر سزا دی، پھر مجاہد ہ کیا او رپھر جھڑکا۔
Flag Counter