Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
371 - 415
اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا اخلاص ،اخلاص کا محتا ج ہے۔''

    حضرت سَیِّدُناسہل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا :''کون سی چیز نفس پر زیادہ سخت ہے ؟ انہوں نے فرمایا: ''اخلاص، کیونکہ اس میں نفس کا کوئی حصہ نہیں۔اور فرمایا: اخلاص یہ ہے کہ بندے کی حرکت وسکون سب کچھ محض اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے ہو۔''

    حضرت سَیِّدُنا جنید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''اخلاص ،اعمال کا کدو رتو ں سے پاک ہونے کا نام ہے۔''

     حضرت سَیِّدُنا فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''لوگو ں کو دکھانے کے لئے عمل تر ک کرنا ریاکاری اوران کے لئے عمل کرنا شرک ہے اور اخلاص یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان دونوں چیزوں سے محفو ظ رکھے۔''

    منقول ہے :'' اخلاص ہمیشہ مراقبہ میں رہنے اور تمام نفسانی خواہشات کو بھول جانے کا نام ہے۔''واللہ اعلم بالصواب
صد ق کی حقیقت کابیان:
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَیۡہِ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان: کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیاجو عہد اللہ سے کیا تھا ۔ (پ 21، الاحزاب: 23)

    حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے: ''بے شک سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ گناہ کی طر ف لے جاتا ہے ، گناہ جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں کذَّاب لکھ دیاجاتا ہے ۔''
(صحیح البخاری،کتاب الادب،باب قول اﷲ تعالی یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ.....الایۃ،الحدیث۶۰۹۴،ص۵۱۴)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰہِیۡمَ ۬ؕ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿41﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور کتا ب میں ابراہیم کو یاد کر و بے شک وہ صدیق تھا (نبی )غیب کی خبریں بتا تا۔(پ 16،مریم:41)
صدیق کا معنی:
    جاننا چاہے! لفظ صِدق چھ معا نی میں استعمال ہوتا ہے: (۱) گفتگومیں صدق (۲) نیت وارادہ میں صدق(۳) عزم میں صدق(۴) عزم کو پورا کرنے میں صدق(۵) علم میں صدق(۶)دین کے تمام مقامات کی تحقیق میں صدق۔

    پس ان تمام معانی میں صدق سے متصف ہونے والا صدیق ہے کیونکہ صدق میں مبالغہ ہے اور ان مقامات میں جس قد ر ممکن ہے وہ اس نسبت سے صاد ق کہلاتا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ وَاِلَیْہِ الْمَرْجَعُ وَالْمَآبُ۔
Flag Counter