نے ذکر کیا ہے اس میں زیادہ نفع ہے چنانچہ اس نے شیطان سے اس عہد وپیمان پر قسم لی اور ا پنے عبادت خانے کی طرف لوٹ آیا، صبح ہوئی تودیکھا کہ اس کے سرہانے دودینار رکھے ہوئے ہیں۔ اس نے انہیں اٹھالیا ،دوسرے دن بھی اسی طر ح ہوا لیکن تیسرے دن اسے کچھ نہ ملاتو وہ غصے میں آگیا اورکلہاڑا اپنے کندھے پر رکھ کر درخت کی طرف چلا،راستے میں پھر بزرگ کی شکل میں شیطان ملا اور پوچھا:'' کہاں جارہے ہو؟''عابد نے کہا :''اس درخت کو کاٹنے جارہا ہوں۔''شیطان نے کہا:''اللہ کی قسم! تم جھوٹ بولتے ہو، تم اس پر قادر نہیں اور نہ اس کام کو کر سکتے ہو۔''
چنانچہ عا بد نے اسے پکڑکر پہلے کی طر ح گِرانا چاہا توشیطان نے کہا:'' اب ایسا نہیں ہوسکتا ۔''پھرشیطان نے اسے پکڑ کرپچھاڑدیا،اب وہ عابد شیطان کے سامنے چڑیا کی طرح تھا اور ابلیس لعین اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا اور کہنے لگا:'' اپنے اس اِرادے سے باز آجا ؤ ،ورنہ تمہیں جان سے ماردوں گا۔'' عابد نے جب اپنے آپ کو بے بس پایا،تو اس نے کہا:''اے فلاں ! تومجھے چھوڑ دے اور یہ بتا کہ تو مجھ پرکیسے غالب آگیا ،حالانکہ پہلی مرتبہ میں تجھ پر غالب آگیا تھا اور اب تو غالب آگیا؟'' شیطان نے کہا: ''پہلی مرتبہ تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے غصہ آیا تھا اور تیری نیت آخرت کی تھی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے تیرے ہاتھوں مغلوب کر دیا اور اس مرتبہ تجھے اپنی ذات اور دنیا کے لئے غصہ آیا تو میں نے تجھے پچھاڑ دیا۔'' یہ حکایت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کی تصدیق کرتی ہے: