| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
حقیقت میں استاذ ہی باپ ہوتا ہے کیونکہ باپ فانی زندگی کااور استاذ ابدی زندگی کا سبب بنتا ہے چنانچہ اس کا حق ماں باپ کے حق پر مقدم ہے۔
جب تک رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ پیش نظرنہ ہوتودنیا وی مقاصد کے لئے علم سکھانا ہلاک ہونا اور ہلاک کرنا ہے پس ایک استاد کے طلباء کو چاہے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کریں کیونکہ علماء او ر آخرت کے طالب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ کے مسافر ہیں اور دنیا سے گزر کر اسی کی طرف جانے والے ہیں زندگی کے ماہ وسال راستے کی منزلیں ہیں اور جو مسافر ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف سفرکرتے ہیں ان کے درمیان باہمی رفاقت ایک دوسرے سے محبت اور دوستی کا سبب بنتی ہے تو جو سفر اللہ عَزَّوَجَلَّ اور فردوس اعلیٰ (یعنی جنت)کی طرف ہو اور اس میں تنگی بھی نہ ہو تو محبت کیسے نہ ہوگی پس انہیں چاہئے کہ وہ مقابلہ بازی اور جنگ و جدل سے دُور رہیں۔چنانچہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ
ترجمۂ کنزالایمان: مسلمان مسلمان بھائی ہیں ۔( پ26، الحُجُرٰت:10)
دو سرا اَدب:استاذ کو چاہے کہ وہ حضورنبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی اقتدا کرے اور علم سکھانے پر اجرت طلب نہ کرے۔چنانچہ،اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:لَا نُرِیۡدُ مِنۡکُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُکُوۡرًا ﴿9﴾
ترجمۂ کنزالایمان: تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے۔(پ29 ،الدہر :9) استاذ کاشاگردوں کو علم سکھانا اگر چہ اس کا ان پر احسان ہے مگر شاگردوں کا بھی استاذ پراحسان ہے کیونکہ وہ طالب علموں کے دلوں میں علم و ایمان کو پختہ کرنے کے سبب اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرتا ہے۔
تیسرا اَدب: استاذ کو چاہے کہ نصیحت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے جیسے طالب علم کا اپنے حق سے پہلے رتبے کو حاصل کرنے کی خواہش کرنا اور ظاہری علوم حاصل کرنے سے پہلے پوشیدہ علوم میں غور و خوض کرنا،تواستاذ ایسی باتوں سے منع کرے۔
چوتھا اَدب: استاذ کو چاہئے کہ وہ طالب علم کو حتی الامکان اشاروں کنایوں سے نصیحت کرے اور اسے برے اخلاق سے روکے واضح الفاظ میں نہ کہے کیونکہ واضح الفاظ سے روکنا ہیبت کو ختم کر دیتا ہے نیز استاذکوپہلے خود صاحبِ استقامت ہوناچاہئے پھر طالب علم سے استقامت کا مطالبہ کرے ورنہ نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ افعال کی پیروی اقوال کی پیروی سے زیادہ مضبوط ومستحکم ہوتی ہے۔