| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
نیت کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
جہاں تک مباحات کا تعلق ہے تووہ بھی حُسنِ نیت سے عبادت کے زمرے میں داخل ہو جاتے ہیں، اس پر تو جہ دینی چاہے، اسی طر ح تمام حرکات وسکنات حُسنِ نیت سے عبادت بن جاتی ہیں۔ انسا ن کو چاہئے کہ وہ اپنی عمر کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرے اور اس نیت کے ذریعے جانورو ں سے ممتا ز رہے کیونکہ جانوروں کا طریقہ ہے کہ وہ ہرکام ارادہ ونیت کے بغیر کرتے ہیں۔
حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے: ''بروزِقیامت بندے سے ہر چیز کے بارے میں سوال ہو گایہاں تک کہ اس کی آنکھوں کے سر مے ، انگلیوں سے مِٹی کرید نے اور اپنے بھائی کا کپڑا چھونے کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔''(حلیۃ الاولیاء، احمد بن ابی الحواری، الحدیث۱۴۴۰۶،ج۱۰،ص۳۱، مختصرًا)
جو شخص اپنے اعمال پرہمیشگی اختیار کرے، تا کہ وہ سنت کے مطابق اور اچھی نیت سے صادر ہوں تو وہ مقربین میں سے ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿18﴾
ترجمۂ کنزالایمان : کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔(پ 26، ق: 18)
ایک بزرگ فرماتے ہیں:''میں نے ایک تحریر لکھی اور اُسے پڑوسی کی دیوار سے خشک کرنے کا اِرادہ کیا، لیکن اُسے اچھا نہ جانا پھر سوچا: یہ تو معمولی مٹی ہے اور اِس میں حرج بھی کیا ہے؟مگرجب تحریرپرمٹی ڈالی تو غیب سے آواز آئی :''جو شخص مٹی کو معمولی سمجھتا ہے، وہ عنقریب جان لے گا کہ کل بروزِ قیامت وہ کتنا بڑا حساب پائے گا۔''
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ ایک شخص نے نماز پڑھی ،اُس نے آپ کا کپڑا اُلٹا دیکھا تو آپ کو بتایا، آ پ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے درست کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا پھر روک لیا اور ٹھیک نہ کیا، اس شخص نے اس کی وجہ پوچھی توآپ نے فرمایا: ''میں نے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے پہنا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ غیر کے لئے اسے درست کرو ں۔''
حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:بروزِقیامت ایک آدمی دوسرے آدمی سے اُلجھے گا اور کہے گا: ''میرا اور تیرا معاملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سامنے ہے۔''دوسرا کہے گا:'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں تجھے نہیں جانتا ؟'' وہ جواب دے گا: ''کیوں نہیں، تونے میری دیوار سے ایک اینٹ لی تھی اور میرے کپڑے سے ایک دھاگا لیا تھا۔''نیت اختیاری چیزنہیں:
ہم کہتے ہیں کہ بعض اوقات جاہل شخص نیت کے متعلق ہماری باتوں کو سُن کرکہتا ہے کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے پڑھانے،تجارت کرنے اور کھانے وغیرہ کی نیت کرتا ہوں، حالانکہ یہ سب دِل کی بات اور خیالات کی منتقلی ہے ،نیت ان سے